رسائی کے لنکس

فورٹ ہُڈ مقدمہ، ندال کا اختتامی بیان دینے سے انکار


اسکیچ

اسکیچ

پچھلے بدھ کو 13فوجی اہل کاروں پر مشتمل جیوری نے اُنھیں قصور وار ٹھہرایا تھا۔ اب عدالت کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہے آیا ندال حسن کو عمر قید کی سزا ہونی چاہیئے یا سزائے موت

ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ شوٹنگ مقدمے میں قصور وار ٹھہرائے گئے میجر ندال حسن نے سزا کے مرحلے سے قبل شہادتیں پیش نہ کرکے اور بیان حلفی نہ دے کر، مقدمے کو بغیر عام پیروی کے چھوڑ دیا ہے۔

امریکی فوج کے سائکیاٹرسٹ کو 2009ء میں فوجی اڈے میں حملے کے دوران 13افراد کی ہلاکت اور 30سے زائد افراد کو زخمی کرنے کے جرم میں گذشتہ ہفتے مجرم قرار دیا گیا تھا۔

پچھلے بدھ کو 13فوجی اہل کاروں پر مشتمل جیوری کو، جس نے اُنھیں قصور وار ٹھہرایا تھا، اس بات کا فیصلہ کرنا ہے آیا ندال حسن کو عمر قید کی سزا ہونی چاہیئے یا پھر سزائے موت، جو فوج میں شاذ و نادر نوعیت کا معاملہ ہے۔

منگل کی شام ہونے والی عدالت کی کارروائی کے دوران ندال حسن نے اُن کی سزا پر غور کے مرحلے میں اپنے دفاع میں کوئی دلیل پیش کرنے سے انکار کیا، ساتھ ہی عدالت کے سامنے بیان دینے سے بھی انکار کیا۔ ندال حسن نے صرف یہ کہا کہ ’دفاع خاموش ہے‘۔

حسن کے خود ساختہ وکیل صفائی نے ایک تحریک پیش کرنا چاہی، جس میں حسن کے انکار کو مسترد کیے جانے کے لیے کہا گیا تھا اور اُن کی طرف سے وکالت کی اجازت مانگی گئی تھی۔

جج، کرنل تارا اوسبورن نے تحریک کو مسترد کرتے ہوئے یاد دلایا کی فوجی انصاف کے نظام میں اِس بات کی کوئی گنجائش نہیں، کیونکہ ندال اپنی مرضی سے اپنی پیروی خود کرنے کا مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے۔

ندال حسن امریکہ میں پیدا ہونے والا مسلمان ہے۔ وہ حملے کا اعتراف کر چکے ہیں۔

حسن کے بقول، امریکہ اسلام مخالف جنگ لڑ رہا ہے، جس کے باعث اُنھوں نے اپنی ہمدردی تبدیل کرلی ہے۔

مقدمے میں اُنھوں نے اپنی پیروی خود ہی کی، اور اپنے ابتدائی بیان میں عدالت سے کہا تھا کہ ثبوت ’واضح طور پر یہ ظاہر کردے گا‘ کہ اُنھوں نے ہی گولیاں چلائی تھیں۔

اس سے قبل موصول ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ، ٹیکساس کےفورٹ ہُڈ شوٹنگ کے مقدمے میں دو روز سے جاری سماعت میں منگل کے روز 20عینی شاہدین نے جذباتی انداز میں بیان حلفی قلم بند کروایا، ایسے میں جب میجر ندال حسن کے خلاف باضابطہ سزا سنائے جانے کا مرحلہ قریب لگتا ہے۔

استغاثہ کی طرف سے سات عینی شاہدین پیش ہوئے، جن میں شوٹنگ کے نتیجے میں متاثرہ خاندانوں کو پہنچنے والے نقصان اور تکالیف کو بیان کیا گیا۔

جن گواہان نے حکومت کی طرف سے شہادتیں پیش کیں اُن میں سے ایک، جولین کاہیل کا کہنا تھا کہ اُن کا شوہر، ریٹائرڈ چیف وارنٹ افسر، مائیکل کاہیل نے ندال حسن کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی جان گنوائی۔

اُنھوں نے اُس تباہی کی تفصیل پیش کی جو شوٹنگ کے نتیجے میں خاندان کا مقدر بنی۔

اپنے شوہر کی ہلاکت، جنھیں اُنھوں نے خاندان کی وحدت کا ایک ستون قرار دیا، کہا کہ حسن کے کرتوت کے باعث آنے والی آفت سےوہ اب تک صحیح معنوں میں نبرد آزما نہیں ہو پائیں۔

منگل کی صبح قلم بند کی جانے والی شہادتوں میں لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) رینڈی روئر، جیرالڈین کروگر، شیرل پیرسن، فلپ وارمن، ٹینا نملکا اور کرسٹین گفنی کے نام شامل تھے۔

اِن میں سے ہر ایک کو ذاتی نقصان پہنچا، براہ راست یا بلا واسطہ تکلیف ہوئی؛ یا پھر شوہر، بیوی، بیٹی یا بیٹے کی ہلاکت کی صورت میں دکھ ملا۔

سبھی نے یہ استفسار کیا کہ پانچ نومبر 2009ء کو حسن کی شوٹنگ کی کارستانی کے نتیجے میں اُنھیں بے تحاشہ نقصان پہنچا۔ عدالت کی آج کی کارروائی میں ماریکے ڈی کرو کے کی تحریری شہادت بھی پڑھ کر سنائی گئی، جس کے بعد استغاثے نے وقفے کی استدعا کی۔
XS
SM
MD
LG