رسائی کے لنکس

اخبار 'جورڈن ٹائمز' نے خبر دی ہے کہ ہلاک شدگان میں کینیڈا کی شہری خاتون اور کم از کم پانچ پولیس والے شامل ہیں، بشمول چار افراد جن کی، بعدازاں، سکیورٹی ذرائع نے دہشت گرد کے طور پر شناخت کی

اردن کے حکام نے کہا ہے کہ سلامتی افواج نے اُن غیر ملکی سیاحوں کو بازیاب کرا لیا ہے، جنھیں کرک کے وسطیٰ شہر کے قرون وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے عہد کے قلعے میں یرغمال بنایا گیا تھا، جس سے قبل اتوار کے روز مسلح افراد کے حملوں میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ کم از کم 22 دیگر افراد زخمی ہوئے، جن میں سولین اور پولیس والے شامل ہیں۔
اخبار 'جورڈن ٹائمز' نے خبر دی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کینیڈا کی شہری خاتون اور کم از کم پانچ پولیس والے شامل ہیں، بشمول چار افراد جن کی، بعدازاں، سکیورٹی ذرائع نے دہشت گرد کے طور پر شناخت کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ہلاکتیں اس سنگلاخ شہر کے کسی اور حصے میں واقع ہوئیں، جو 70000 نفوس پر مشتمل ہے، جس کے بعد مسلح افراد نے بارہویں صدی عیسوی کے قلعے پر دھاوا بول دیا، بظاہر اُنھوں نے ملک کے معروف ترین سیاحتی مقام پر پناہ لے رکھی تھی۔
اخبار نے پبلک سکیورٹی کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ پانچ گھنٹے تک جاری رہنے والے سکیورٹی آپریشن کے بعد قلعے میں پھنسے ہوئے شہریوں کو بازباب کرایا گیا، اور اُنھوں نے بتایا ہے کہ قریبی سولینز کا بھی انخلا عمل میں لایا گیا، جس کے لیے شہر میں داخلے کے تمام اہم مقامات کو بند کردیا گیا تھا۔
پولیس نے کہا ہے کہ مسلح افراد قطرانہ سے کرک میں داخل ہوئے، جو شہر کے شمال مشرق میں 30 کلومیٹر دور واقع بالا حصار قصبہ ہے۔
اتوار کی شام گئے تک کسی نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی جب کہ حکام نے ہمسایہ شام میں مسلح افراد اور شدت پسند گروہوں کے درمیان کسی رابطے کی تفصیل کا انکشاف نہیں کیا۔
کشیدگی کے شکار مشرق وسطیٰ میں اردن کو عام طور پر استحکام کا نخلستان کہا جاتا ہے۔ اردن شام اور عراق میں امریکی قیادت میں اتحاد کے جانب سے داعش کے شدت پسندوں کے خلاف جاری فضائی کارروائی میں شریک ہے۔ فضائی کارروائی کے خلاف ملک کی شہری آبادی کی مخالفت کے باوجود، اردن فضائی کارروائی میں شریک ہے۔

XS
SM
MD
LG