رسائی کے لنکس

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز جموں اور کشمیر کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جمعرات کو ہندواڑہ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں چار مشتبہ شدت پسندوں ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ جھڑپ بدھ کو رات گئے اس وقت شروع ہوئی جب بھارتی سکیورٹی فورسز نے دیہاتیوں کی اطلاع پر علاقے کی تلاشی لینا شروع کی جس کے بعد شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کر دی۔ اس کے نتیجے میں ہونے والی جھڑپ میں چار شدت پسند مارے گئے۔

ہندواڑہ کے پولیس چیف غلام جیلانی نے کہا کہ ’’لگ بھگ ساڑھے آٹھ بجے شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کی۔ یہ جھڑپ پوری رات جاری رہی۔ صبح ہم نے چاروں شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا اور ان کی لاشوں کو قبضے میں لے لیے۔‘‘

اس جھڑپ میں ایک سپاہی بھی زخمی ہوا۔ ان کی پناہ گاہ سے اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ بھی برآمد ہوا۔

غلام جیلانی نے کہا کہ وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان شدت پسندوں کا تعلق کس تنظیم سے ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز جموں اور کشمیر کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

بدھ کو ہونے والی جھڑپ میں ایک شدت پسند اور ایک فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

اس شدت پسند کا نام ریاض احمد بتایا گیا اور حکام کے مطابق اس کا تعلق جزب المجاہدین کے دھڑے لشکر اسلامی سے تھا۔

27 اگست کو بھارتی سکیورٹی فورسز نے شمالی کشمیر میں ایک جھڑپ کے بعد ایک مبینہ پاکستانی شدت پسند کو پکڑنے کا دعویٰ کیا جس میں تین اور شدت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارت اس سے پہلے بھی پاکستانی شدت پسند پکڑنے کا دعویٰ کر چکا ہے مگر پاکستان اس کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔

اس سے قبل بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس کے ایک قافلہ پر ضلع ادھم پور میں شدت پسندوں نے حملہ کر دیا جس میں ایک شدت پسند جبکہ بی ایس ایف کے دو اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

گزشتہ پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیروں کی طے شدہ ملاقات منسوخ کیے جانے کے بعد سے جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ممالک میں کشیدگی عروج پر ہے۔

بھارت پاکستان پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ تربیت یافتہ شدت پسند بھارت کے زیر انتظام کشمیر بھیجتا رہا ہے مگر پاکستان اس کی تردید کرتا رہا ہے۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ وہ کشمیریوں کی حق رائے دہی کی جدوجہد کی صرف اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتا ہے۔

XS
SM
MD
LG