رسائی کے لنکس

فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے مزید چار مجرموں کو پھانسی

  • عشرت سلیم

فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے ’آئی ایس پی آر‘ کے ایک بیان کے مطابق ان افراد کو ’’خونریزی، خود کش بمباری، اغوا برائے تاوان اور دہشت گرد تنظیموں کی معاونت‘‘ میں مجرم پایا گیا۔

پاکستان میں فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے چار دہشت گردوں کو منگل کو کوہاٹ کی سنٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے رواں ماہ کے اوائل میں ان کی سزائے موت کے وارنٹ پر دستخط کیے تھے۔

فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے ’آئی ایس پی آر‘ کے ایک بیان کے مطابق ان افراد کو ’’خونریزی، خود کش بمباری، اغوا برائے تاوان اور دہشت گرد تنظیموں کی معاونت‘‘ میں مجرم پایا گیا۔

پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے میں ملوث چار دہشت گردوں کو بھی 3 دسمبر کو اسی جیل میں پھانسی دی گئی تھی۔

گزشتہ سال دسمبر میں ہونے والے اس حملے میں 120 سے زائد بچوں سمیت لگ بھگ 150 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد ملک میں سزائے موت پر عائد پابندی اٹھا لی گئی تھی۔

اس مہلک حملے کے بعد پاکستان میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعے دو سال کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔

دریں اثناء پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے چیئر مین اکرم زکی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں آپریشن ضرب عضب اور بعد میں انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت کیے گئے اقدامات سے ملک میں دہشت گرد حملوں میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔

انسٹی ٹیوٹ نے 2001 سے اب تک پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات سے متعلق ایک ڈیٹا بیس تیار کیا ہے جس میں ان واقعات کی تفصیلی معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

اکرم زکی کا کہنا تھا کہ ان کی ادارے کی طرف سے اکٹھے کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ جانی نقصان 2009 میں ہوا جبکہ 2014 میں سب سے زیادہ حملے کیے گئے۔

فوجی عدالتوں کے قیام اور سزائے موت پر عملدرآمد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہر پہلو کا دہشت گردی کے واقعات کو کم کرنے میں کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ہے۔

’’انسانی معاشرے میں ہر عنصر کے مثبت اور منفی پہلو ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور کسی ایک پہلو کی (دہشتگردی کم کرنے میں) خصوصاً نشاندہی کرنی ہو تو آپریشن ضرب عضب بہت بڑا آپریشن ہے جس کی آسانی سے نشاندہی کی جا سکتی ہے کہ اس سے ان کے شمالی وزیرستان میں ٹھکانے تباہ ہو گئے۔ باقی تمام عوامل بھی ہیں۔ اگر پولیس اصلاحات ہو جائیں تو وہ بھی ایک عنصر ہو گا۔‘‘

تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے کہا جاتا رہا ہے کہ سزائے موت پر عملدرآمد سے دہشت گردی کو کم کرنے میں کوئی مدد نہیں ملی بلکہ دیگر اقدامات کی وجہ سے ملک میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

اکرم زکی کا کہنا تھا کہ اگرچہ پشاور سکول پر حملہ ایک بہت المناک واقعہ تھا مگر اس نے دہشت گردی کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں مدد دی۔

انہوں نے کہا کہ آپریشنز کے نتیجے میں مالی نقصان بھی کم ہونا شروع ہوا اور سکیورٹی میں بہتری سے ملک کی اقتصادی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG