رسائی کے لنکس

لیبیا:چار امریکی فوجی اہلکار کچھ دیر کی تحویل کے بعد رہا


ترجمان جین ساکی

ترجمان جین ساکی

ترجمان جین ساکی نے بتایا کہ یہ چاروں اہلکار صبراتہ نامی علاقے میں سکیورٹی انتظامات میں مصروف تھے کہ انھیں مقامی حکام نے تحویل میں لے لیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ لیبیا میں کچھ دیر کے لیے تحویل میں لیے گئے اس کے چار فوجی اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

ترجمان جین ساکی نے بتایا کہ یہ چاروں اہلکار صبراتہ نامی علاقے میں سکیورٹی انتظامات میں مصروف تھے کہ انھیں مقامی حکام نے تحویل میں لے لیا۔

ترجمان نے اہلکاروں کی رہائی سے چند گھنٹے قبل ہی انھیں حراست میں لیے جانے کا اعلان کیا تھا۔

جمعہ کو دیر گئے ان کا کہنا تھا کہ محمکہ خارجہ اس واقعے کے اصل حقائق جاننے کی کوشش کر رہا ہے۔

جین ساکی نے کہا کہ امریکہ ’’نئے لیبیا‘‘ کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور ’’لیبیا میں تاریخی جمہوری انتقال اقتدار‘‘ کی حمایت کرتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی ایک خبر میں نام ظاہر کیے بغیر حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ اہلکار لیبیا سے سفارتکاروں کے انخلا کے لیے ممکنہ راستے کا جائزہ لے رہے تھے کہ انھیں حراست میں لے لیا گیا۔

لیبیا میں 2011ء میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے یہاں مقیم امریکیوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر شدت پسندوں کے حملے میں امریکی سفیر اپنے چار ہم وطنوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔

رواں ماہ کے اوائل میں بن غازی ہی کے علاقے میں ایک امریکی استاد کو اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا جب وہ صبح کی سیر میں مصروف تھے۔
XS
SM
MD
LG