رسائی کے لنکس

کراچی: چار سالہ بچہ لیاری ندی میں لاپتا، گھنٹوں سے تلاش جاری


بچے کے چچا سعید ’سناٹا‘ نے وائس آف امریکہ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’’جواد کی تلاش کا کام 24 گھنٹے بعد شروع ہوسکا ہے۔ لیکن کوشش کے باوجود کسی بھی حکومتی ادارے نے ان سے رابطہ نہیں کیا، نہی مشینری یا غوطہ خوروں کو بھیجا گیا صرف ایدھی کے رضاکار تلاش کے کام میں مصروف ہیں ‘‘

کراچی شہر کے جس کونے میں بھی چلے جائے کھلے ندی نالے آپ کو ہر جگہ مل جائیں گے۔ ’لیاری ندی‘ شہر میں سب بڑی ندی ہے اور تقریباً پورے ہی شہر کا احاطہ کرتی ہے۔ اس ندی کے ساتھ ساتھ، کنارے کنارے شہر کی سینکڑوں کچی پکی بستیاں اور لاکھوں گھر آباد ہیں۔

یہ کئی فٹ گہری ہے اور گندے پانی کا بہاؤ یہاں بہت تیز ہوتا ہے۔ سہراب گوٹھ کے قریب ایف بی ایریا بلاک 22 میں پاک مدینہ کالونی بھی اسی کے کنارے آباد ہے۔ اسی کالونی کا رہائشی ایک چار سالہ بچہ جواد ولد خان محمد پیر کی شام پانچ بجے کے قریب اچانک وہاں کھیلتےہوئے اپنا توازن کھو بیٹھا۔ ڈھلان سے لُڑکا اور کوئی رکاوٹ نہ ہونے کے سبب سیدھا ندی میں جاگرا۔

اس واقعے کو 30 گھنٹے سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ یہ بات تقریباً طے ہے کہ جواد زندہ نہیں بچا ہوگا۔ لیکن اس کی لاش اب تک نہیں ملی۔ پاکستان میں منگل کو رات کا اندھیرا گہرا ہونے کے باوجود اس کی تلاش کا کام جاری تھا ۔

بچے کے چچا سعید ’سناٹا‘ نے وائس آف امریکہ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جواد کی تلاش کا کام 24 گھنٹے بعد شروع ہوسکا ہے۔ لیکن، کوشش کے باوجود کسی بھی حکومتی ادارے نے ان سے رابطہ نہیں کیا نہ ہی مشینری یا غوطہ خوروں کو بھیجا گیا۔ صرف ایدھی کے رضاکار تلاش کے کام میں مصروف ہیں۔ ‘

سعید نے اپنے عقب میں تلاش کے کام میں مصروف کرین یا ’شول‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’یہ کرین بھی ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت شیر شاہ سے آٹھ ہزار روپے کرائے پر منگوائی ہے۔ لیکن، چونکہ ندی کے گندے پانی کی اوپری سطح پر مہینوں سے کچرا پھنسا ہوا ہے۔ لہذا، امید ہے کہ جواد بھی شاید اسی کچرے میں کہیں پھنسا پڑا ہوگا۔ لیکن، اگر کچرے کے نیچے سے تیزی سے بہتے ہوئے پانی کے ساتھ لاش نکل گئی ہے تو پھر معلوم نہیں کب اور کہاں سے اس کی لاش ملے۔‘‘

سعید کے مطابق شہری انتظامیہ ’کے ایم سی‘ کی جانب سے چھوٹی مشینری بھیجی گئی تھی۔ لیکن گہری ندی اور منوں ٹنوں کچرے میں یہ مشینری چل نہیں سکتی۔ لہذا، اس کا کوئی مقصد نہیں۔‘‘

واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سعید کی زبانی اس ویڈیو کے ذریعے ملاحظہ کیجئے:

XS
SM
MD
LG