رسائی کے لنکس

فرانس کا افغانستان مشن جاری رکھنے کا اعلان


فرانس کا افغانستان مشن جاری رکھنے کا اعلان

فرانس کا افغانستان مشن جاری رکھنے کا اعلان

قبل ازیں صدر سرکوزی نے کہا تھا کہ اگر افغانستان میں سلامتی کی صورتِ حال واضح نہ ہوئی تو وہ اپنی افواج کے افغانستان سے قبل از وقت انخلا پر غور کریں گے

فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے افغانستان میں گزشتہ ہفتے ایک افغان فوجی کے ہاتھوں چار فرانسیسی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کےبعد معطل کی گئی تربیتی سرگرمیاں بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جمعہ کو پیرس میں افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کےبعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر سرکوزی نے یہ اعلان بھی کیا کہ افغانستان میں تعینات فرانسیسی فوجی طے شدہ اوقاتِ کار کے مطابق 2013ء کے اختتام تک نیٹو کی سربراہی میں جاری مشن میں خدمات انجام دیتے رہیں گے۔

قبل ازیں صدر سرکوزی نے کہا تھا کہ اگر افغانستان میں سلامتی کی صورتِ حال واضح نہ ہوئی تو وہ اپنی افواج کے افغانستان سے قبل از وقت انخلا پر غور کریں گے۔ لیکن بعد ازاں پیرس حکومت نے افغانستان سے فرانسیسی افواج کے جلد بازی میں انخلا کی قیاس آرائیاں رد کردی تھیں۔

فرانسیسی صدر نے شمالی افغانستان میں ایک افغان فوجی اہلکار کے ہاتھوں چار فرانسیسی فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد افغانستان میں فرانس کی فوجی سرگرمیاں معطل کردی تھیں۔

گزشتہ ہفتے پیش آنے والے واقعے میں افغان صوبے کپیسا کے ایک فوجی مرکز میں جاری تربیتی مشق کے دوران ایک افغان اہلکار نےفرانسیسی فوجیوں پر فائر کھول دیا تھا جو اس وقت غیر مسلح تھے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں فرانس کے لگ بھگ 3600 فوجی موجود ہیں جو تمام کے تمام مشرقی علاقوں میں تعینات ہیں۔ گزشتہ 10 برس سے جاری افغان جنگ کے دوران اب تک کل 82 فرانسیسی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ افغان صدر کے دورہ فرانس کے دوران دونوں ممالک طویل المدتی اسٹریٹجک تعاون کے ایک معاہدے پر بھی دستخط کریں گے جس میں 2014ء میں افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد فرانس کے کردار کا تعین کیا جائے گا۔

صدر کرزئی کا حالیہ دورہ فرانس ان کے تین ملکی دورہ یورپ کا حصہ ہے ۔ پیرس آمد سے قبل افغان صدر نے روم میں اطالوی رہنمائوں سے ملاقاتیں کی تھیں جب کہ جمعے کی شام وہ برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے لیے لندن روانہ ہوں گے۔

فرانس کے رواں سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے ایک اہم امیدوار فرانسس ہالینڈ پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو سال کے آخر تک تمام فرانسیسی فوجیوں کو افغانستان سے واپس بلالیں گے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ سوشلسٹ نظریات کے حامل ہالینڈ انتخاب میں سرکوزی کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائیں۔

رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق 84 فی صد فرانسیسی باشندے 2012ء تک افغانستان سے فرانسیسی افواج کے انخلا کے حق میں ہیں۔

XS
SM
MD
LG