رسائی کے لنکس

فرانس کا افغانستان سے اپنی فوج نکالنے پر غور


فرانسیسی وزیر دفاع

فرانسیسی وزیر دفاع

فرانس کے وزیر دفاع نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان اتحادی فوجیوں کے لیے ایک جال ثابت ہورہاہے۔

فرانس کے نئے وزیر دفاع الین جوپے نے بدھ کے روز یورپ ون ریڈیوکو بتایا کہ فرانس افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنا چاہتاہے اور وہ نیٹو کے آئندہ سربراہ اجلاس میں مغربی فوجیوں کی جلد واپسی کے امکان پربات چیت کرے گا۔

ابھی تک فرانسیسی وزیر دفاع کا یہ کہنا تھا کہ فرانس اس وقت تک افغانستان کے کسی حصے سے اپنی فوجیں نہیں نکالے گا جب تک وہاں کی حکومت اس علاقے کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہوجاتی۔

نیٹو کے ارکان پروگرام کے مطابق 19 نومبر کو پرتگال کے شہر لزبن میں ملاقات کررہے ہیں۔

بدھ کی صبح افغانستان میں نیٹوکے اعلی سویلین عہدے دار نے کہاتھا کہ اتحادی افواج 2014ء کے پہلے سے طےشدہ منصوبے کے بعد بھی ممکنہ جنگی کارروائیوں کے لیے وہاں مزید ٹہر سکتی ہیں۔ 2014ءمیں حکام سیکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان فوج اور پولیس کو سپرد کرنا چاہتے ہیں۔

کابل میں گفتگو کرتے ہوئے مارک سیڈ ول نے کہا کہ بین الاقوامی فوج سے کنٹرول کی افغانوں کو منتقلی 2015ء یا اس کے بعد تک بھی جاری رہ سکتی ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ 2014ء میں افغان فورسز، بین الاقوامی فورسز سے سیکیورٹی کی مکمل ذمہ داری لینے کے لیے تیار ہوں گی۔

کینیڈا نے منگل کے روز یہ تصدیق کی 2011ء میں کینیڈا کے لڑاکا فوجی مشن کے اختتام کے بعد تربیت فراہم کرنے کے لیے اس کے 950 تک فوجی افغانستان میں رہیں گے۔

کینیڈا کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس کے تقریباً 750 انسٹرکٹر اور کم ازکم 200 مددگار سٹاف 2014ء تک افغانستان میں رہے گا۔

XS
SM
MD
LG