رسائی کے لنکس

عرب ممالک میں جاری بین الاقوامی کوششوں میں فرانس پیش پیش

  • لیزا برائنٹ

عرب ممالک میں جاری بین الاقوامی کوششوں میں فرانس پیش پیش

عرب ممالک میں جاری بین الاقوامی کوششوں میں فرانس پیش پیش

امریکہ کی قیادت میں عراق کے لیڈر صدام حسین کا تختہ الٹنے کی مہم شروع ہوئی تو فرانس کی طرف سے اس کی سخت مخالفت کی گئی تھی۔ لیکن اب فرانس کا رول تبدیل ہو گیا ہے اور وہ مطلق العنان عرب حکومتوں کے خلاف بین الاقوامی کوششوں میں پیش پیش ہے۔

پیرس میں یوم باسٹیل (Bastille Day) کی تقریبات میں لڑاکا ہوائی جہاز پرواز کر رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں کے دوران ان جہازوں کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سال معمر قذافی کی حکومت کے خلاف ہوائی حملے شروع کرنے والے نیٹو کے ارکان میں سب سے پہلا ملک فرانس تھا۔ لیبیا کی عبوری قومی کونسل کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بھی فرانس تھا۔ عہدے داروں نے تصدیق کی ہے کہ فرانس نے باغیوں کو ہلکے ہتھیار بھی فراہم کیے ہیں۔

گزشتہ منگل کو، فرانس کی پارلیمینٹ نے لیبیا میں کارروائی کی توسیع کے لیے فنڈز کی فراہمی کی توسیع کے حق میں ووٹ دیا۔ وزیرِ خارجہ الین ژوپے (Alain Juppe) کہتے ہیں کہ قذافی کے اقتدار چھوڑنے کے بارے میں حکومت نے لیبیا کی حکومت سے رابطے کیے ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ سیاسی حل کی کوئی صورت نکل رہی ہے۔

ایک ریڈیو انٹرویو میں ، ژوپے (Juppe) نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ قذافی کا رخصت ہونا نا گزیر ہو گیا ہے، اور اس سلسلے میں افریقی یونین مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔

فرانس نے شام کے معاملے میں بھی سخت موقف اختیار کیا ہے ۔اس نے اقوام ِمتحدہ میں ایک قرار داد کا مسودہ پیش کیا جس میں احتجاج کرنے والے لوگوں کے خلاف حکومت کی کارروائیوں کی مذمت کی گئی ہے ۔ گذشتہ ہفتے ، وزیرِ اعظم فرینکوئس فلون (Francois Fillon) نے شام کے صدر بشر الاسد کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے۔

’’یورپ 1 ریڈیو پر تقریر کرتے ہوئے فلون (Fillon) نے کہا کہ اسد نے تمام حدوں کو توڑ ڈالا ہے ۔ انھوں نے اقوام ِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں خاموشی پر بھی تنقید کی جہاں چین اور روس نے قرارداد کو بلاک کر دیا ہے۔‘‘

فرانس نے اب جو مضبوط موقف اختیار کیا ہے وہ اس کے چند برس پہلے کے رویے سے بہت مختلف ہے جب سابق صدر ژاک شراک (Jacques Chirac) نے عراق میں امریکہ کی زیرِ قیادت مہم کی سخت مخالفت کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ آخر فرانس کے رویے میں تبدیلی کی کیا وجہ ہے؟

لندن کے چاتھم (Chatham House) کی تجزیہ کار اسپینسر اس طرف توجہ دلاتی ہیں کہ فرانس کے موجودہ صدر نیکولا سارکوزی (Nicolas Sarkozy) کا رویہ امریکہ کے ساتھ زیادہ دوستانہ ہے۔

’’میرے خیال میں اگرچہ بعد کے واقعات سے ثابت ہوا کہ انھوں نے شاید صحیح فیصلہ کیا تھا، لیکن فرانس کو الگ تھلگ ہونے کی صورت میں جو قیمت ادا کرنی پڑی، اور امریکہ میں اس کے بارے میں جو اہانت آمیز باتیں کہی گئیں، ان سے فرانسیسیوں کو احساس ہوا کہ انھوں نے جو رول ادا کیا وہ مناسب نہیں تھا۔‘‘

اسپینسر کہتی ہیں کہ تیونس کے بارے میں بھی فرانس کا موقف بدل گیا ہے کیوں کہ اب وہ وہاں کی ابھرتی ہوئی جمہوریت کا حامی ہے ۔ لیکن فرانس پر تنقید کی گئی ہے کہ اس کے تعلقات سابق صدر زین العابدین بن علی کی حکومت کے ساتھ بہت قریبی تھے۔ اسپینسر کہتی ہیں کہ یہ ایک اور وجہ ہے کہ قذافی کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا ہے۔

’’میں محسوس کرتی ہوں کہ فرانس نے لیبیا میں جو کردار ادا کیا ہے وہ ایک طرح سے اس کے سابق طرز عمل کے ازالے کے مترادف ہے۔ وہ گویا یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اس معاملے میں پہل کریں گے اور سابقہ غلطیوں کا ازالہ کریں گے۔‘‘

لیکن یہ بات واضح نہیں ہے کہ عرب دنیا میں فرانس کی کوششیں کتنی کامیاب ہوں گی۔ تجزیہ کار کہتےہیں کہ لیبیا یا شام کے بحران سے نکلنے کے کوئی آسان طریقہ نہیں ہے۔

فرانس اپنے طور پر مشرقِ وسطیٰ کی امن کانفرنس کے لیے بھی کوشش کر رہا ہے اگرچہ واشنگٹن اور اسرائیل دونوں اس کے حق میں نہیں ہیں۔ فرانس نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ اگر امن مذاکرات میں تعطل برقرار رہتا ہے، تو ممکن ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے۔

اسپینسر کہتی ہیں کہ ’’ان کی اپنی آواز ضرور ہے، لیکن جیسا کہ یورپی یونین کو اسرائیلی فلسطینی مسائل کے بارے میں پتہ چل گیا ہے، کہ ہمیشہ یہی فرض کیا جاتا ہے اور یہی ہوتا ہے کہ جو امریکی موقف ہوتا ہے وہی غالب رہتا ہے۔‘‘

صرف فرانس ہی ایسا ملک نہیں ہے جو عرب دنیا میں اپنے سفارتی اثر و رسوخ استعمال کر رہا ہے۔ لیبیا کے تنازعے کو طے کرنے میں ترکی بھی سرگرمی سے حصہ لے رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG