رسائی کے لنکس

امریکہ کی جانب سے خفیہ نگرانی کا مبینہ عمل ’ناقابل قبول‘: فرانس


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ امریکہ فرانسیسی صدر فرانسیس اولاند کے ابلاغ کی نگرانی نہیں کر رہا اور نہ ہی آئندہ ایسا کرے گا۔

فرانسیسی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ خفیہ نگرانی کا عمل ’’اتحادیوں کے درمیان ناقابل قبول ہے۔‘‘ یہ بات شفافیت کی حامی ویب سائٹ ’وکی لیکس‘ کی جانب سے ایسی دستاویزات شائع کرنے کے بعد کی گئی جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے فرانسیسی صدر اور ان کے دو پیش روؤں نکولس سارکوزی اور یاک شیراک کی جاسوسی کی تھی۔

حکومتی ترجمان سٹیفن لو فال نے بدھ کو نامہ نگاروں کو پیرس میں بتایا کہ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ایک اتحادی دوسرے اتحادی کی جاسوسی کس مقصد کے تحت کرے گا، خصوصاً جب وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شریک ہیں۔

فرانس کے صدر کے ایک معاون نے کہا کہ بدھ کو صدر اولاند کی اپنی دفاعی کونسل کے ساتھ ملاقات متوقع ہے جس میں وکی لیکس کی جانب سے شائع کی جانے والی معلومات کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ امریکہ فرانسیسی صدر فرانسیس اولاند کے ابلاغ کی نگرانی نہیں کر رہا اور نہ ہی آئندہ ایسا کرے گا۔

ان انکشافات، جن کی اطلاع فرانس کے روزنامے ’لیبریشن‘ اور تحقیقاتی ویب سائٹ ’میڈیا پارٹ‘ کے تعاون سے دی جا رہی ہے، کے درست ہونے کی فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔

امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ اوباما انتظامیہ ’’مخصوص اور توثیق شدہ قومی سلامتی کے مقاصد‘‘ کے بغیر غیر ملکی انٹیلی جنس نگرانی نہیں کرتی۔ ان کے مطابق یہ معیار عالمی رہنماؤں اور ’’عام شہریوں‘‘ دونوں پر لاگو ہوتا ہے۔

پرائس نے کہا کہ ’’ہم فرانس کے ساتھ عالمی اہمیت کے تمام معاملات پر مل کر کام کرتے ہیں اور فرانسیسی ہمارے اہم ساتھی ہیں۔‘‘

ترجمان نے اس بات پر تبصرہ نہیں کیا کہ آیا فرانس کے صدر کے ابلاغ کی ماضی میں بھی نگرانی کی جاتی رہی ہے یا نہیں۔

2013ء میں وکی لیکس نے اطلاع دی تھی کہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے جرمن چانسلر آنگلا مرخیل کے ذاتی ٹیلی فون کی نگرانی کی تھی۔ اس خبر سے جرمنی میں ایک سیاسی اسکینڈل پیدا ہو گیا جس کے بعد سرکاری انکوائری شروع کی گئی۔

اس مسئلے پر امریکہ کا جرمنی کو ستمبر 2013ء میں دیا جانے والا جواب فرانس کو دیے جانے والے جواب سے ملتا جلتا تھا، کہ امریکہ اس وقت مرخیل کی ٹیلی فون کالز کی نگرانی نہیں کر رہا، اور نہ ایسا مستقبل میں کرے گا۔

منگل کے انکشافات سے ایک ہفتہ قبل صدر اوباما نے ایک قانون پر دستخط کیے تھے جس کے بعد امریکی حکومت کا اپنے شہریوں کے ذاتی ٹیلی فون اور انٹرنیٹ ابلاغ کی تحقیقات کا اختیار ختم ہو گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG