رسائی کے لنکس

فرانس: گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد سیکیورٹی سخت

  • واشنگٹن

بدھ کو شائع ہونے والے ایک فرانسیسی رسالے نے اپنے صفحہ اول پر حضرت محمد ﷺ کا ایک کارٹون شائع کیا ہے، جب کہ رسالے کے اندرونی صفحات پر بھی کئی گستاخانہ کارٹون موجود ہیں۔

فرانس کے ایک رسالے میں پیغمبر اسلام کے خاکے شائع ہونے کے بعد وہاں کی مسلمان کمیونٹی کے راہنماؤں نے اپنی برہمی کا اظہار کیا ہے۔ کارٹونوں کے خلاف ردعمل کے خدشات کے پیش نظر فرانس کی حکومت مسلمان ممالک میں اپنے اسکول اور سفارت خانے بند کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔

بدھ کو شائع ہونے والے ایک فرانسیسی رسالے نے اپنے صفحہ اول پر حضرت محمد ﷺ کا ایک کارٹون شائع کیا ہے ، جب کہ رسالے کے اندرونی صفحات پر کئی گستاخانہ کارٹون موجود ہیں۔
فرانسیسی حکام نے ہفت روزہ رسالے Charlie Hebdo کے تحفظ کے لیے پولیس کے دستے تعینات کردیے ہیں۔

حکومت نے یہ بھی کہاہے کہ اس نے احتیاطی اقدام کے طورپر جمعے کے روز 20 ممالک میں اپنے سفارت خانے، قونصل خانے، ثقافتی مراکز اور اسکول بندکرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ مسلمان اپنے اکثر مظاہرے جمعے کی نماز کے لیے اکھٹے ہونے کے بعد کرتے ہیں۔

فرانس کے وزیر اعظم جین مارک ایرولٹ نے لوگوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فرانس اظہار کی آزادی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کارٹونوں سے جن لوگوں کے جذبات کوٹھیس پہنچی ہے انہیں چاہیے کہ وہ اس کے قانونی ازالے کے لیے عدالتوں سے رجوع کریں۔

پچھلے سال بھی اس ہفت روزہ نے پیغمبر اسلام کے کارٹون شائع کیے تھے ، جس پر بعدازاں اس کے دفتر کو نذرآتش کردیا گیاتھا۔

لیکن اس سال یہ کارٹون ایک ایسے موقع پر شائع ہوئے ہیں جب مسلمان ممالک میں امریکہ میں بننے والی ایک گستاخانہ فلم پر پہلے ہی شدید برہمی پائی جاتی ہے۔ فلم کے خلاف مظاہروں اور تشدد کے نتیجے میں دنیا بھر میں دو درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں لیبیا میں امریکی سفیر بھی شامل ہیں۔

فرانس کی مسلم کمیونٹی کے لیڈروں نے وزیر داخلہ سے ملاقات کے بعد لوگوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔فرانس کی کونسل فار مسلمز کے صدر محمد موسوی نے مسلمانوں کی برہمی اور غصے کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کے اس کے ردعمل میں سکون کا مظاہرہ کیا جائے۔

ان کا کہناتھاکہ مسلمانوں کو جارحانہ ردعمل ظاہر نہیں کرناچاہیے لیکن ان کا یہ بھی کہناتھا کہ اس موقع پر فرانس کے حکام کو مسلمانوں کی ڈھارس بندھانی چاہیے کیونکہ وہ بھی ان کے بھی وہی حقوق ہیں جو اس ملک کے دوسرے شہریوں کے ہیں۔

فرانس میں مسلمانوں کی تعداد یورپ کے دیگر تمام ممالک سے زیادہ ہے۔

گذشتہ ہفتے پولیس نے دارالحکومت پیرس میں امریکی سفارت خانے کے سامنے غیر قانونی مظاہرہ کرنے والے تقریباً ڈیڑھ سو افراد میں سے درجنوں کو گرفتار کرلیاتھا۔

وزیر اعظم نے اپنے ایک ریڈیو انٹرویو میں بتایا کہ حکام نے اگلے ہفتے کو مظاہرہ کرنے کی اجازت سے متعلق درخواست مسترد کردی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG