رسائی کے لنکس

فرانس کے صدارتی انتخابات، سرکوزی مشکل میں

  • آندرے نیسنیرا

فرانس کے صدر نکولس سرکوزی کو انتخابی مہم میں سوشلسٹ پارٹی کے امیدوار فرانسس ہولینڈ کا زبردست مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہ انتخاب اتوار کو ہونے والا ہے۔ اس لیے اب امیدواروں کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ فرانسیسی ووٹروں کی رائے پر اثر انداز ہو سکیں ۔

ماہرین کہتے ہیں کہ بڑی حد تک یہ فرانسیسی سیاست میں دائیں بازو اور بائیں بازو کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے ۔ لیکن پیرس میں فرنچ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے اعلیٰ مشیر ڈومینک موئسی کہتےہیں کہ اس صدارتی مہم میں ایک اور عنصر بھی شامل ہو گیا ہے، اور وہ ہے شخصیتوں کا ٹکراؤ۔

’’اگر آپ دونوں شخصیتوں کا خاکہ پیش کرنا چاہیں تو نکولس سرکوزی کے بارے میں تو تاثر یہ ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ سرگرم ہیں جب کہ فرانسس ہولینڈ ضرورت سے زیادہ دھیمے مزاج کے مالک ہیں۔ سرکوزی کی سیاسی موقع پرستی اور اور سیمابی کیفیت سے لوگ پریشان ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ذاتی سطح پر لوگ نکولس سرکوزی کو پسند نہیں کرتے اور اس لحاظ سے یہ انتخاب منفرد ہو گیا ہے۔‘‘

فرانس کے بہت سے شہریوں کا یہ خیال بھی ہے کہ پانچ سال تک بر سرِ اقتدار رہنے کے بعد، مسٹر سرکوزی نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے ہیں، خاص طور سے معیشت کے شعبے میں۔
کونسل آن فارن ریلیشنز کے تجزیہ کار چارلس کپچن کہتے ہیں کہ فرانس کے صدر کو دوبارہ منتخب ہونے میں سخت دشواری پیش آ رہی ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔

’’پہلی تو یہ کہ معیشت بحال نہیں ہوئی ہے ۔ سرکوزی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ماضی سے رشتہ توڑ دیں گے اور فرانس کی منڈیوں کو پابندیوں سے آزاد کر دیں گے ۔ انھوں نے ٹیکس کے نظام میں اصلاح کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، اور لیبر مارکٹ کو آزاد کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انھوں نے ریٹائر ہونے کی عمر بڑھا دی ہے، لیکن فرانس میں اقتصادی ترقی رُک گئی ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ سرکوزی نے اپنی سیاسی کشش کھو دی ہے ۔ فرانس کے بہت سے ووٹرز سمجھتے ہیں کہ ان کے مزاج میں وہ دھیما پن اور بردباری نہیں ہے جو صدر میں ہونی چاہیئے۔‘‘

ڈومینک موئسی کا بھی یہی خیال ہے ۔ وہ کہتے ہیں’’عام احساس یہ ہے کہ انھوں نے صدارت کے پرائیویٹ اور سرکاری رول کو خلط ملط کر دیا ہے اور صدر کے عہدے کا وقار کم کر دیا ہے۔ ان کے انداز میں ایک قسم کا سستا پن ہے جو اس عہدے سے مطابقت نہیں رکھتا جس پر کبھی جنرل چارلس ڈیگال فائز تھے۔‘‘

رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی معجزہ ہی مسٹر سرکوزی کو سوشلسٹ پارٹی کے امیدوار فرانسس ہولینڈ کے ہاتھوں شکست سے بچا سکتا ہے ۔

ماہرین کہتے ہیں کہ توقع ہے کہ میرائن لی پن کی انتہائی دائیں بازو کے پیروکار تک، مسٹر سرکوزی کا ساتھ چھوڑ دیں گے ۔ پانچ برس قبل، انھوں نے خاصی تعداد میں مسٹر سرکوزی کی حمایت کی تھی ، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اب ان میں سے بہت سے لوگ، ان کے خلاف ہو گئے ہیں کیوں مسٹر سرکوزی ، اپنے وعدے پورے نہیں کر سکے ہیں۔ ان کا ایک وعدہ یہ تھا کہ وہ امیگریشن کو روک دیں گے۔

ڈومینک موئسی کہتے ہیں’’اگر نیشنل فرنٹ کے تمام ووٹرز نکولس سرکوزی کو ووٹ دیں، تو اس سے فرق پڑے گا ۔ لیکن رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلا ہے کہ نیشنل فرنٹ کے زیادہ سے زیادہ 60 فیصد ووٹرز نکولس سرکوزی کا ساتھ دیں گے ۔ بقیہ 40 فیصد یا تو ہولینڈ کو ووٹ دیں گے، یا کسی کو ووٹ نہیں دیں گے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ نکولس سرکوزی کے ووٹ کم ہو جائیں گے۔‘‘

موئسی کہتے ہیں کہ نیشنل فرنٹ کی لیڈر میرائن لی پن جو گذشتہ مہینے انتخاب کے پہلے راؤنڈ میں تیسرے نمبر پر آئی تھیں ہولینڈ یا مسٹر سرکوزی میں سے کسی کو بھی ووٹ نہیں دیں گی۔

’’ان کا حتمی مقصد سرکوزی کی شکست اور دائیں بازو کی تعمیرِ نو ہے جس میں نیشنل فرنٹ کو نمایاں مقام حاصل ہو۔ جون میں ووٹنگ کا تیسرا راؤنڈ ہوگا جس میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہوں گے۔ وہ بڑے اشتیاق سے ، فرانس کے دائیں بازو میں، اپنی سیاسی پارٹی کے نئی اہمیت حاصل کرنے کا انتظار کر رہی ہیں۔‘‘

جہاں تک اتوار کے روز کے صدارتی انتخاب کی ووٹنگ کا سوال ہے، موئسی اور دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ فرانس کے لوگ فرانسس ہولینڈ کو اس لیے ووٹ دیں کہ وہ ان کی پالیسیوں کو پسند کرتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ ہولینڈ کو محض اس لیے ووٹ دیں گے کہ وہ نکولس سرکوزی نہیں ہیں۔

XS
SM
MD
LG