رسائی کے لنکس

فرانس کے نئے صدر کو درپیش چیلنجز

  • لیزا آنت

فرانس کے نئے صدر

فرانس کے نئے صدر

پیر کے روز دنیا کے لیڈروں نے سوشلسٹ لیڈر فرانسوا ں اولان کو فرانس کے صدر کا انتخاب جیتنے پر مبارکباد دی۔ اس طرح نکولس سارکوزی کی شکست سے ایک اور یورپی لیڈر مسلسل جاری مالی بحران کی نذر ہو گیا ۔ یورپ کی مالی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہا جس سے فرانس کے اگلے صدر اور ملک کے لیے ان کی اقتصادی پالیسیوں کے بارے میں بے یقینی کی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔

فتح کے جشن کا شور ختم ہونے کے ساتھ ساتھ، فرانس کے اگلے صدر فرانسوا ں اولان کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ اتوار کے روز قدامت پسند صدر نکولس سارکوزی کو شکست دینے کے بعد، اپنے ہزاروں پرستاروں کو خطاب کرتے ہوئے مسٹر اولان نے فرانس کے نوجوانوں کو انصاف ، برابری اور بہتر مستقبل فراہم کرنے کا وعدہ دیا۔

مسٹر اولان کہتے ہیں کہ وہ مالدار لوگوں پر ٹیکس میں اضافہ کرنا اور تعلیم پر زیادہ پیسہ لگانا چاہتے ہیں، اور مالی بحران سے نکلنے کے لیے، وہ چاہتے ہیں کہ یورپ سرکاری اخراجات کم کرنے کے اقدامات کے بجائے اقتصادی ترقی کو فروغ دے ۔

لیکن بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال موجود ہے کہ کیا یہ 57 سالہ سوشلسٹ لیڈر اس ذمہ داری کا بوجھ اٹھا نے کے اہل ہیں ۔ مسٹر اولان برسوں سے سیاست میں سرگرم رہے ہیں۔ لیکن خراب اقتصادی حالات میں ان کی صلاحیتوں کا امتحان کبھی نہیں ہوا ہے ۔فرانس بھاری قرضے کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور بے روزگاری کی شرح بہت اونچی ہے ۔ اور ملک میں اقتصادی ترقی تقریباً بالکل رکی ہوئی ہے ۔

سیاسی تجزیہ کار برونو کاؤٹرز کہتے ہیں ’’ کسی کو پتہ نہیں کہ فرانسوا ں اولان میں انتہائی مشکل اقتصادی مسائل سے نمٹنے کی کتنی صلاحیت ہے، اور وہ فرانس کے صدر کی ذمہ داری اٹھانے کے کتنے اہل ہیں۔‘‘

لیکن کاؤٹرز کہتے ہیں کہ صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران، بہت سے لوگوں کو اس بات پر حیرت ہوئی کہ مسٹر اولان کا انداز صدر کے طرح باوقار تھا اور ایسا لگتا تھا کہ وہ مشکل مسائل سے نمٹنے کے اہل ہیں۔’’فرانسوا ں اولان نے خود کو ایک عام پُر سکون شخص کی طرح پیش کیا، ایسا شخص جو اقتصادی بحران میں فرانس کی آبادی کی تشویش کو دور کرنا جانتا ہے، اور اس بدلتی ہوئی دنیا میں جس میں فرانس کی آبادی کو ڈر ہے کہ ہمیں جو سماجی تحفظ حاصل ہے، اور ہم جس سوشل سیکورٹی کے عادی ہو چکے ہیں، وہ ہم سے چھن جائے گی ، لوگوں کو خوف سے نجات دلانا جانتا ہے ۔‘‘

پیرس کی سڑکوں پر، اولان کے حامی خوشی سے پھولے نہیں سماتے ۔ 24 سالہ طالبہ Luiza Taiati کہتی ہیں کہ بائیں بازو کے لوگ گذشتہ 20 برس سے سوشلسٹ پارٹی کے صدر کا انتظار کر تے رہے ہیں۔ سرکوزی کے دور میں، اقتصادی حالات غیر یقینی کا شکار تھے اور لوگوں کو گذارا کرنا مشکل ہو گیا تھا۔

لیکن 33 سالہ بزنس مین جان پیبلو ورگاس مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’مجھے فرانس اور یورپ کی طرف سے بڑی فکر ہے، خاص طور سے اس لیے کہ ہمیں یقین نہیں کہ اگر اولان نے فرانس کے مالیاتی نظام میں ہر چیز بدل دی ، تو ہمیں یقین نہیں کہ جرمنی اسی طرح ہر چیز کے لیے پیسہ فراہم کرتا رہے گا۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں جرمنی فرانس کو اکیلا نہ چھوڑ دے۔ اگر ایسا ہوا تو یورپی یونین ختم ہو سکتی ہے، اور یہ کسی کے لیے بھی اچھا نہیں ہو گا۔‘‘

مسٹر اولان کہتے ہیں کہ وہ مالی نظم و ضبط کے اس سمجھوتے کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں جو یورپی یونین کے 27 میں سے 25 ملکوں کے درمیان ہوا تھا جن میں مالی طور پر مضبوط ملک جرمنی بھی شامل ہے ۔ اگلے ہفتے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد، توقع ہے کہ مسٹر اولان جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل سے ملیں گے جو بجٹ میں نظم و ضبط کی زبردست حامی ہیں۔
فرانس کے ماہرِ معاشیات توماسز میکالسکئی کہتے ہیں کہ مسٹر اولان کا اقتصادی ترقی کا نعرہ دوسرے یورپی ملکوں میں بھی مقبول ہو رہا ہے جہاں اخراجات کم کرنے کے اقدامات کے خلاف عوامی احتجاج شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔’’مسٹر اولان بڑے ہوشیار آدمی ہیں۔ وہ بڑی نپی تلی زبان استعمال کرتےہیں ۔ وہ مالیاتی اقدامات پر نئے سرے سے مذاکرات کرنا نہیں چاہتے۔ وہ اقتصادی ترقی کے سمجھوتے کے ذریعے اس میں ترمیم کرنا اور اسے مکمل کرنا چاہتے ہیں ۔ اور وہ اور مسز مرکل اس طرح بات چیت کر سکتےہیں۔‘‘

لیکن میکالسکئی کہتے ہیں کہ سوشلسٹ لیڈر فرانس اور یورپ کے لیے لمبے چوڑے وعدے کر رہے ہیں۔ یہ ایسے وعدے ہیں جو ایسے وقت میں جب اقتصادی ترقی کی پیشگوئیاں تاریک ہیں، وہ شاید پورے نہ کر سکیں۔ ’’مسٹر اولان پیسہ خرچ کر کے، خود کو کساد بازاری سے نہیں نکال سکتے ۔ وہ اور زیادہ پیسہ خرچ نہیں کر سکتے۔ وہ اور زیادہ نوٹ چھاپ نہیں سکتے ۔ ان کی پالیسیوں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ مختصر مدت کے لیے، وہ بجٹ میں توازن بحال کر سکتے ہیں ۔ لیکن میرے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ وہ فرانس میں پائیدار نوعیت کی ترقی کی تحریک کیسے پیدا کر سکتے ہیں۔‘‘

میکالسکئی کہتے ہیں کہ بہت سے معاملات میں، مسٹر اولان کی سیاسی ساکھ کا انحصار ان کی پالیسیوں پر نہیں بلکہ خارجی واقعات پر ہو گا ۔ اگر عالمی معیشت بحال ہو گئی، تو ممکن ہے کہ فرانس کے نو منتخب صدر، اپنے وعدے پورے کر سکیں۔ میکالسکئی کہتے ہیں کہ اگر وہ ایسا نہ کر سکے، تو سیاسی طور پر ان کا بھی وہی حشر ہو سکتا ہے جو سبکدوش ہونے والے صدر نکولس سارکوزی کا ہوا ہے ۔

XS
SM
MD
LG