رسائی کے لنکس

فرانس نے روسی فٹ بال مداح کو ملک بدر کر دیا


روسی اور برطانوی شائقین میں ہونے والی جھڑپوں میں 35 افراد زخمی ہو گئے تھے

روسی اور برطانوی شائقین میں ہونے والی جھڑپوں میں 35 افراد زخمی ہو گئے تھے

تفتیش کاروں کے بقول فرانس سے بذریعہ ہوائی جہاز بارسلونا جانے کے بعد وہ کار کے ذریعے دوبارہ فرانس میں داخل ہو گیا۔

فرانس نے فٹبال کے ایک سرگرم کارکن کو ملک بدر کرتے ہوئے ماسکو روانہ کر دیا ہے۔

گزشتہ چار روز میں الیگزینڈر شپریگن کو دوسری مرتبہ فرانس سے بے دخل کیا گیا۔

روس کے انتہائی دائیں بازو سے وابستہ شپریگن کو یوروکپ میں انگلینڈ اور روس کے فٹبال شائقین کے درمیان جھڑپوں کے تناظر میں گزشتہ ہفتہ کو بے دخل کیا گیا تھا لیکن تفتیش کاروں کے بقول فرانس سے بذریعہ ہوائی جہاز بارسلونا جانے کے بعد وہ کار کے ذریعے دوبارہ فرانس میں داخل ہو گیا۔

فرانس کی وزارت داخلہ کے مطابق شپریگن کو منگل کو دوبارہ ملک بدر کر دیا گیا اور انھیں پیرس سے بدھ کو علی الصبح ماسکو جانے والی پرواز پر روس روانہ کر دیا گیا۔

فرانسیسی استغاثہ 11 جون کو مارسیل میں ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کا الزام روسی شائقین پر عائد کرتے ہیں۔ جھڑپوں کے بعد گرفتار کیے گئے لوگوں میں شپریگن میں شامل تھے۔

شپریگن نے تولوز اسٹیڈیم سے اپنی تصویر ٹوئٹر پر جاری کی تھی جس کے بعد حکام نے انھیں حراست میں لے لیا تھا۔

فرانس نے ہفتہ کو شپریگن کے ہمراہ 20 روسی تماشائیوں کو بے دخل کیا تھا اور شپریگن نے دعویٰ کیا کہ ان میں سے چار اپنے ملک کی ٹیم کا آخری میچ دیکھنے کے دوبارہ فرانس میں داخل ہوئے۔

روس، فرانس سے اپنے تماشائیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر شکایت بھی کر چکا ہے۔

ادھر روسی اور برطانوی شائقین میں ہونے والے پرتشدد جھڑپوں میں زخمی ہونے والے دو برطانوی شہری تاحال کوما میں ہیں اور زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔

XS
SM
MD
LG