رسائی کے لنکس

پیرس: دو طالبات کی ملک بدری کے احکامات، مظاہرے


بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں کوسوو سے تعلق رکھنے والی لیونارڈا ڈبرانی کو ملک بدر کیا گیا۔ جب کہ 15برس کی بچی کو اپنی ہم جماعت طالبات کے سامنے اسکول کی بس سے نیچے اتارا گیا، جو، مظاہرین کے بقول، مناسب کارروائی نہیں تھی

فرانس کے ہزاروں طالب علموں نے جمعرات کے دِن پیرس کی سڑکوں پر مظاہرہ کیا۔ وہ تارکین وطن خاندانوں کی ملک بدری کے احکامات، جن میں دو جواں سال طالبات بھی شامل ہیں، کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

احتجاج کے دوران کئی مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ تاہم زیادہ تر احتجاج، پُرامن نوعیت کا تھا۔

طالب علموں نے کچھ علاقوں کے اسکولوں کے داخلی حصوں کو بند کیے رکھا۔

طالب علموں کے مطابق، حالیہ دنوں میں کوسوو سے تعلق رکھنے والی لیونارڈا ڈبرانی کو ملک بدر کیا گیا۔ جب کہ اس سے قبل، 15برس کی س بچی کو اپنی ہم جماعت طالبات کے سامنے اسکول کی بس سے نیچے اتارا گیا، جو، مظاہرین کے بقول، مناسب کارروائی نہیں تھی۔

فرانسسی پولیس کے بقول، یہ اقدام طالبات کے اہل خانہ کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد جاری ہونے والے احکامات کی روشنی میں کیا گیا۔

پیرس کے اسکول کے ایک اور طالبہ، 19 برس کی کچیک کشاتریان کو ہفتے کے روز ارمینیا ملک بدر کیا گیا۔

چند اشتراکی قانون سازوں نے، جن میں وزیر داخلہ مینوئل والس بھی شامل ہیں، حکومت پر الزام لگایا ہے کہ سخت قسم کے امی گریشن ضابطے لاگو کرکے بائیں بازو کے اقدار کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف، کہا گیا ہے کہ روم سے غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے تارکین وطن غیر قانونی طور پر فرانس کے خیموں میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں، جنھیں اپنے اپنے ملکوں کی طرف واپس بھیجا جائے۔

ڈبرانی نے ’وائس آف امریکہ‘ کی ’البانیہ سروس‘ کو بتایا کہ وہ البانی زبان نہ تو بول سکتی ہیں، نہی تحریر کر سکتی ہیں، جس کے باعث اُن کے لیے کوسوو میں تعلیم مکمل کرنا مشکل مرحلہ ہوگا۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ فرانس واپس آنا چاہتی ہیں تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔
XS
SM
MD
LG