رسائی کے لنکس

ایک شخص کا ’قلم کردہ‘ سر فیکٹری کے گیٹ کے قریب سے ملا اور اطلاعات کے مطابق اُس کے قریب ہی سے ایک ’بینر‘ یا جھنڈا بھی تھا جس پر عربی زبان میں کچھ تحریر تھا۔

فرانس کے صدر فرانسواں اولاند نے کہا ہے کہ ملک کے جنوب مغرب میں ایک گیس فیکٹری پر ’’دہشت گرد‘‘ حملے اور دھماکے میں ملوث ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یہ حملہ فرانس کے شہر لیون میں جمعہ کو ہوا۔ ایک شخص کا ’قلم کردہ‘ سر فیکٹری کے گیٹ کے قریب سے ملا اور اطلاعات کے مطابق اُس کے قریب ہی سے ایک ’بینر‘ یا جھنڈا بھی تھا جس پر عربی زبان میں کچھ تحریر تھا۔

برسلز میں یورپی یونین کے سربراہ اجلاس میں شریک فرانس کے صدر فرانسواں اولاند نے نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ’’یہ ایک دہشت گرد حملہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔‘‘

اس حملے سے متعلق معلومات ابھی تک غیر واضح ہیں۔ فرانس کے صدر نے کہا کہ دو دیگر افراد اس حملے میں زخمی ہوئے۔

صدر فرانسواں اولاند نے کہا کہ فیکٹری میں کام کرنے والے دیگر افراد کو وہاں سے نکال لیا گیا ہے اور سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

حملے کے بعد فرانس نے حملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے لیون کے جنوب مشرق میں واقع سینٹ کوئنٹن فلاوئیر میں واقع فیکٹری میں ایک مشتبہ حملہ آور داخل ہوا اور اس نے کئی کم شدت کے دھماکے کیے۔

دو فرانسیسی حکام نے خبر رساں ادارے ’روئٹرز‘ کو بتایا کہ حملہ صبح اس وقت شروع ہوا جب ایک شخص نے اپنی کار فیکٹری کے داخلی دروازے اور گیس کے کنستروں سے ٹکرا دی جس سے دھماکا ہوا۔ ان کے مطابق ایک حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس سے قبل جنوری میں پیرس میں ’شارلی ایبڈو‘ نامی جریدے کے دفتر پر دہشت گرد حملے میں 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG