رسائی کے لنکس

فرانسیسی معاشرے میں قدامت پسندی کے رجحانات بڑھ رہے ہیں؟

  • ہنری ریجول

مارسیلی میں تقریباً دو لاکھ مسلمان رہتے ہیں

مارسیلی میں تقریباً دو لاکھ مسلمان رہتے ہیں

ایسا لگتا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران فرانس میں مختلف نسلی گروپوں کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ۔ حکومت کی طرف سے مسلمان عورتوں کے نقاب پر پابندی اور ملک سے سینکڑوں روما لوگوں کو نکال دیے جانے سے، اس خیال کو تقویت ملی ہے کہ فرانس کے معاشرے میں دائیں بازو کے رجحانات پر وان چڑھ رہے ہیں ۔ ایسے رجحانات فرانس کے دوسرے سب سے بڑے شہرمارسیلی میں بھی نمایاں ہو رہے ہیں، اگرچہ یہ شہر کبھی دنیا بھر کے لوگوں کا خیر مقدم کرنے کے لیے مشہور تھا۔

فرانس کے دوسرے سب سے بڑے شہر مارسیلی میں نئے شہری فرانس کا قومی ترانہ گا رہےہیں۔ان لوگوں کا تعلق 28 مختلف ملکوں سے ہے اور یہ سب یہاں فرانس کے ترنگے جھنڈے تلے، ایک طویل عمل سے گذرنے کے بعد، شہریت کی آخری تقریب کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ مارسیلی کے میئر Jean-Claude Gaudin نے خیر مقدمی کلمات میں کہا کہ فرانس کا شہری بننے کے بعد آپ کو حقوق مل جاتے ہیں لیکن آپ پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ آپ فرانس کے قوانین اور ضابطوں کا احترام کریں۔

تقریب کے بعد، وائس آف امریکہ نے دو لڑکیوں سے پوچھا کہ فرانسیسی شہری بننے کے بعد آپ کی اہم ترین ذمہ داریاں کیا ہیں۔ الجزائر کی Saba Frigajean نے کہا کہ اہم ترین چیز فرانسیسی زبان ہے، اور ہمیں اپنی دنیا میں مگن رہنے کے بجائے نئی چیزیں سیکھنے اور دریافت کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔ ان کی دوست،سیرالیئون کی مارتھا باببٹ نے ان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کے ساتھ خیالات کا تبادلہ بھی اہم ہے ۔

قدیم بندرگا ہ کی فِش مارکیٹ میں سر پر حجاب لیے مقامی مسلمان عورتوں، سینیگا ل کے افریقی باشندوں اور سیاحوں کا ہجوم ہے۔ مارسیلی کی بندرگاہ شمالی افریقہ میں فرانس کی سابق نو آبادیوں تک رسائی کا ذریعہ تھی۔ یہاں مختلف نسلوں اور مذاہب کے لوگ آباد ہیں ۔ اس شہر میں دو لاکھ مسلمان رہتے ہیں جو کہ چوتھائی آبادی، یعنی دو لاکھ لوگ، مسلمان ہیں۔ لیکن فرانس کے بقیہ حصوں کی طرح، حالیہ برسوں میں یہاں بھی تارکین وطن کے خلاف جذبات نے سر اٹھایا ہے ۔

جولائی میں ، فرانس، برقعے کی نقاب سے چہرےکے ڈھکنے پر پابندی لگانے والا ، یورپ میں پہلا ملک بن گیا۔ چند مسلمان عورتیں نقاب سے اپنا چہرہ ڈھکتی ہیں۔ اس اقدام سے فرانس کی مسلمان آبادی میں ، جو یورپ میں سب سے بڑی ہے، ناراضگی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ مارسیلی کی سب سے بڑی مسجد کے امام ، Haroun Derbal نے سوال کیا کہ اس قانون کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے۔ انھوں نے کہا’’فرانس میں صدیوں سے مسلمان معاشرے کا حصہ بن کر رہتے آئے ہیں۔ تو اب برقعے کے خلاف اس قانون کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے ؟ ایسا نہیں ہے کہ حکومت اسلام کے خلاف ہے۔ یہ قانون محض سیاسی ہتھکنڈہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس قانون کےذریعے مسلمانوں کو بد نام کیا جا رہا ہے۔ اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔ ہمارے سامنے زیادہ سنگین مسائل موجود ہیں۔‘‘

مقامی سطح پر بھی کشیدگی موجود ہے ۔ مارسیلی کےمسلمان ایک عشرے سے بھی زیادہ عرصے سے ایک نئی جامع مسجد کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔اب یہ پراجیکٹ پھر ملتوی ہو گیا ہے ۔ امام ہارون کہتے ہیں کہ حزبِ ِ اختلاف کا ایک حصہ اس مسجد کی تعمیر کے خلاف ہے ۔ جب میں انتہائی دائیں بازو کے لوگوں کی بات کرتا ہوں تو میرا مطلب نیشنل فرنٹ سے ہوتا ہے ۔

نیشنل فرنٹ ایک عرصے سے مارسیلی کی سیاست میں سرگرم رہا ہے اور مسجد کے خلاف مہم میں اس نے نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ مارچ کے علاقائی انتخاب میں، نیشنل فرنٹ کا نعرہ تھا’نو ٹو اسلام‘۔ اس نعرے کے سہارے انہوں نے ووٹ دینے والوں میں اپنا حصہ 20 فیصد تک بڑھا لیا۔ نیشنل فرنٹ کے مقامی نمائندے اسٹیفن راویئر نے بتایا کہ اس مہم کا جواز کیا تھا۔’’فرانس میں مختلف نسلوں کے لوگوں کا زندگی کے دھارے میں شامل ہونے کا عمل جاری ہے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ فرانس کے لوگوں کو ہی غیر ملکیوں کے ساتھ ضم ہونا پڑتا ہے ۔ مارسیلی میں اور فرانس کے تمام بڑے شہروں میں، یہ احساس انتہائی شدید ہے کہ فرانس کے لوگ دوسرے ملکوں سے آنے والے لوگوں کا کلچر اور روایات سیکھنے پر مجبور ہیں۔‘‘

بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تارکین وطن کے بارے میں جو بحث شروع ہوئی ہے اس کی جڑیں اقتصادی کساد بازاری میں ہیں۔ اخبار لا پراونس کے سیاسی نامہ نگار، Thierry Noir کہتےہیں کہ گذشتہ 30 برس سے فرانس مختلف ثقافتوں والے معاشروں کے لیے ہم آہنگی کا نمونہ بنا رہا ہے لیکن یہ ایسا ماڈل ہے جس کا انحصار اقتصادی ترقی پر ہے ۔ ایسے کسی شخص کو جو بے روزگار ہو، معاشرے کا حصہ بنانا انتہائی مشکل کام ہے ۔

آج کے غیر یقینی دور میں، فرانس میں نہ صرف امیگریشن اور دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے لوگوں کو معاشرے کا حصہ بنانے کی پالیسی پر بحث جاری ہے بلکہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں فرانس کی شناخت کا سوال بھی زیرِ بحث ہے ۔

XS
SM
MD
LG