رسائی کے لنکس

فرانس کے ایک جج نے حکم دیا ہے کہ تولوز کے ایک یہودی اسکول میں چار افراد کو ہلاک کرنے والے شخص کے بھائی کو قتل کے واقعہ میں، اس کے، ملوث ہونے کے امکان پر پراسیکیوٹرز کی تفتیش تک جیل میں رکھا جائے۔

عبدالقادر مراح نے کہاہے کہ اس نے تین بچوں، ایک یہودی مذہبی راہنما اور تین سیکیورٹی اہل کاروں کو ہلاک کرنے میں اپنے بڑے بھائی محمد مراح کی کوئی مدد نہیں کی۔ لیکن پولیس کا کہناہے کہ اس نے انہیں کہا تھا کہ اسے اپنے بھائی کے اقدام پر فخر ہے۔

اسے جیل میں رکھا جائے گا اور اسے ممکنہ طورپر دہشت گردی کے عمل میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پولیس کو یہ شبہ بھی ہے کہ عبدالقادر مراح 2007ء میں عراق سے اسلامی عسکریت پسندوں کو اسمگل کرنے والے نیٹ ورک کا حصہ تھا۔

محمد مراح جمعرات کو تولوز میں اپنے اپارٹمنٹ میں 30 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک پولیس کے محاصرے میں رہنے کے بعد ان کے ساتھ گولیوں کے تبادلے میں ہلاک ہوگیا تھا۔

مراح نے جن بچوں کو ہلاک کیا تھا ان کی عمریں چار، پانچ اور سات سال تھیں ۔ اس نے تولوز میں ایک یہودی اسکول کے باہر موٹر سائیکل پر سے گذرتے ہوئے انہیں گولیاں ماری تھیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک یہودی ربائی بھی شامل تھا۔

اس نے مارچ کے شروع میں تولوز کے قریب گولیاں مارنے کے دو واقعات میں تین فرانسیسی سپاہیوں کو بھی ہلاک کیاتھا۔

اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کا تعلق القاعدہ سے ہے اور وہ مشرق وسطیٰ میں فلسطینی بچوں کی ہلاکت اور افغانستان میں فرانسیسی فوج کی موجودگی کا انتقام لینا چاہتا تھا۔

XS
SM
MD
LG