رسائی کے لنکس

کارکنوں کے قتل پر افسردہ مگر پر عزم کرد قوم

  • لیزا بریانٹ

یورپ میں کسی کرد لیڈر کے ہلاک ہونے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ دو عشروں سے زیادہ ہوئے ، جب ویانا میں کردستان کی ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ کو قتل کر دیا گیا تھا ۔

پیرس میں تین کردش سرگرم کارکنوں کے قتل میں کس کا ہاتھ ہے، اس بارے میں ترکی کی حکومت اور کردش باغی ایک دوسرے پر الزامات لگا رہےہیں۔ دونوں کا کہنا ہے کہ اس قتل میں دوسرے فریق کے انتہا پسند عناصر کا ہاتھ ہو سکتا ہے ۔

پیرس کے وسط میں ’ریو لافیئتے‘ کے فٹ پاتھ کے نزدیک سے گذرتے ہوئے، جہاں لوگوں کا چھوٹا سا مجمع موجود ہے، ڈرائیور اپنی رفتار کم کر لیتے ہیں ۔ پولیس نے 147 نمبر کے دروازے کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔

پھر بھی، سوگواروں نے اس دروازے کے سامنے گلاب کے پھول رکھ دیے ہیں اور موم بتیاں روشن کر دی ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں جمعرات کے روز تین سرگرم کرد کارکنوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

مامون اریکان بھی اس سرد، اداس صبح کو اپنی عقیدت کے اظہار کے لیے یہاں آئے ہیں۔ انھوں نے کہا’’ہم یہاں پیرس اس لیے آئے ہیں کہ کرد لوگوں کے تمام دشمنوں کو یہ پیغام دیں کہ ہم اپنی آزادی اور خود مختاری کے لیے جنگ جاری رکھیں گے ۔ ہم کسی سے نہیں ڈرتے ۔ اگر وہ ہمیں ہلاک کر رہے ہیں ، تو بھی ہم خوفزدہ نہیں ہوں گے۔‘‘

ہلاک ہونے والوں میں عسکریت پسند کردستان ورکرز پارٹی یا پی کے کے کی سینیئر رکن سکینی کینز شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ یورپ میں پی کے کے کی عورتوں کی تحریک کی سربراہ تھیں۔ بقیہ دو خواتین بظاہر یورپ میں کردوں کے لیے رابطہ کار اور ان کے موقف کے لیے لابی انگ کا کام کرتی تھیں۔

ان کی ہلاکتیں ایسے وقت میں ہوئیں جب پی کے کے اور ترکی کی حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں ۔ کرد عسکریت پسندوں اور ترک عہدے داروں نے ان وارداتوں کی ذمہ داری کے بارے میں ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے ہیں ۔

برسلز میں قائم کردستان نیشنل کانگریس کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن سن گل کرابلیط نے کہا ہے کہ اتنی مہارت سے قتل کی ان وارداتوں میں کسی اہم تنظیم کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے یہ کوئی خفیہ ملیشیا گروپ ہو جس کا تعلق ترکی کی حکومت سے ہو سکتا ہے۔’’قتل کی یہ واردات ایسے لوگوں کی طرف سے اشتعال دلانے کی کوشش ہے جو کرد مسئلے کو حل کر نا نہیں چاہتے ۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ترکی، شام ، ایران اور عراق کے کرد علاقوں میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے ۔‘‘

جس مقام پر گولیاں چلائی گئیں تھیں وہاں سے پندرہ منٹ پیدل کے راستے پر، کردش آرٹس اینڈ کلچر اکیڈمی واقع ہے۔ یہاں سینکڑوں لوگ جمع ہیں اور ٹرکش ٹیلیویژن پر تازہ ترین خبریں سن رہے ہیں۔ اکیڈمی کے صدر مورات پولات نے ان ہلاکتوں کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ہلاکتیں بزدلی کا فعل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ فرانسیسی حکومت نہ صرف قاتلوں کو جلد ہی تلاش کر لے گی بلکہ ان کا پتہ بھی چلا لے گی جنھوں نے ان قاتلانہ حملوں کا حکم دیا تھا ۔

کردوں کو مغربی یورپ میں پہنچے زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں۔ بہت سے لوگ 1960 اور70 کی دہائیوں میں غیر ملکی کارکنوں کی شکل میں آئے تھے ۔ جرمنی اور فرانس میں کردوں کی خاصی بڑی تعداد موجود ہے ۔

یورپ میں کسی کرد لیڈر کے ہلاک ہونے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ دو عشروں سے زیادہ ہوئے ، جب ویانا میں کردستان کی ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ کو قتل کر دیا گیا تھا ۔ حکام آج تک قاتل کو تلاش نہیں کر سکے ہیں۔

پولات کہتے ہیں’’جب کبھی کرد کمیونٹی پر حملہ ہوتا ہے، وہ اور زیادہ مضبوط بن کر ابھرتی ہے ۔ میرے جیسے کردوں میں اور زیادہ حوصلہ پیدا ہوتا ہے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔‘‘

امریکہ اور یورپی یونین نے پی کے کے کو دہشت گرد گروپ قرار دے دیا ہے۔ تین عشروں سے پی کے کے نے زیادہ خود مختاری کے لیے ترکی کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے جس میں 40,000 جانیں ضائع ہو چکی ہیں ۔ لیکن اس کی تحریک کو ترکی کی کرد کمیونٹی میں اور بیرونی ملکوں میں رہنے والے کردوں میں مقبولیت حاصل ہو گئی ہے۔

پورے یورپ میں کرد، پیرس میں ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کے لیے مظاہرے کر رہے ہیں ۔ ہفتے کے روز پیرس میں ایک اور مظاہرہ ہونے والا ہے۔
XS
SM
MD
LG