رسائی کے لنکس

فرانس میں پینشن اصلاحات کی حتمی منظوری


پیرس میں پینشن اصلاحات کے خلاف مظاہرہ

پیرس میں پینشن اصلاحات کے خلاف مظاہرہ

فرانس کے صدر نکولاسارکوزی نے پینشن اصلاحات کے متنازع مسودے پر دستخط کردیے ہیں۔

منگل کو ملک کی آئینی کونسل کی طرف سے پینشن کی عمر 60سے بڑھاکر 62 سال کرنے کے بل کو آئین کا حصہ قراردے دیا جس کے بعد فرانسیسی صدر نے اس قانون کی حتمی منظوری دے دی۔

ان اصلاحات کے خلاف ملک بھر میں ملازمت پیشہ افراد کی نمائندہ تنظیموں کی طرف سے ہڑتالوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث ریل اور فضائی سفر کے نظام میں تعطل کے علاوہ ایندھن کی سپلائی میں بھی خلل واقع ہوا۔

گذشتہ ہفتے تقریباً تین لاکھ 75ہزار افراد نے ایک احتجاجی ریلی میں شرکت کی لیکن اکتوبر کے اواخر میں ہونے والی ایک ریلی میں ملک بھر کے تقریباً پانچ لاکھ لوگوں نے شرکت کی تھی۔

مظاہروں کے باوجود فرانس کی پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے پینشن اصلاحات کے مسودے کو منظور کرلیا تھا۔ اس بل میں مکمل پینشن کی عمر 65سے بڑھا کر 67 سال کرنا بھی شامل ہے۔

جائزہ رپورٹوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فرانس میں لوگوں کی اکثریت اس اقدام کے خلاف ہے۔

صدر سارکوزی نے اصلاحات کو واپس لینے سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ نظام کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے یہ اقدام نہایت ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG