رسائی کے لنکس

فرانس نے جولین اسانج کی پناہ کی درخواست مسترد کردی


فائل

فائل

فرانسیسی صدر کے نام اپنے خط میں اسانج نے لکھا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور فرانس وہ واحد ملک ہے جو انہیں اس سیاسی انتقام سے بچاسکتا ہے جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔

فرانس نے 'وکی لیکس' کے بانی جولین اسانج کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد کردی ہے۔

اسانج نے براہِ راست فرانس کے صدر فرانسس اولاں کو ایک خط کے ذریعے سیاسی پناہ دینے کی درخواست کی تھی۔

فرانسیسی اخبار 'لاموندے' کے مطابق اپنے خط میں اسانج نے لکھا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور فرانس وہ واحد ملک ہے جو انہیں اس سیاسی انتقام سے بچاسکتا ہے جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔

اسانج نے سیاسی پناہ کی یہ درخواست 'وکی لیکس' کی جانب سے وہ خفیہ امریکی دستاویزات جاری کیے جانے کے چند روز بعد کی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ امریکہ صدر فرانسس اولاں سمیت فرانس کے دو سابق صدور کی جاسوسی کرتا رہا ہے۔

ان دستاویزات کی اشاعت کے بعد فرانسیسی حکومت نے ایک بار پھر امریکہ سے اس بارے میں احتجاج کیا تھا اور معاملے کی وضاحت طلب کی تھی۔

جولین اسانج کا پناہ سے متعلق خط 'لاموندے' نے جمعے کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا تھا جس کے ایک گھنٹے بعد ہی فرانسیسی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اعلان کیا گیا کہ صدر اولاں نے اسانج کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد کردی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی حکومت کو اسانج کاخط موصول ہوا ہے اور اسانج کی صورتِ حال کے قانونی اور دیگر پہلووں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ انہیں سیاسی پناہ نہیں دی جاسکتی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جولین اسانج کو موجودہ صورتِ حال میں کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں جب کہ ان کے خلاف یورپی ملکوں کی جانب سے گرفتاری کے وارنٹ بھی موجود ہیں۔

اسانج گزشتہ تین سال سے لندن میں واقع ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ گزین ہیں جہاں انہوں نے برطانوی حکام کے ہاتھوں اپنی گرفتاری اور سوئیڈن حکام کو حوالگی سے بچنے کے لیے پناہ لی تھی۔

اسانج سوئیڈن کی حکومت کو جنسی زیادتی کے ایک مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں مطلوب ہیں لیکن اسانج کا موقف ہے کہ ان کے خلاف مقدمہ من گھڑت ہے اور سوئیڈش حکومت انہیں امریکہ کی ایما پر انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا رہی ہے۔

فرانسیسی حکومت کو تحریر کیے جانے والے اپنے خط میں اسانج نے لکھا تھا کہ ان کا سب سے چھوٹا بچہ اور اس کی ماں فرانسیسی شہری ہیں اور وہ اپنے خلاف جاری انتقامی کارروائیوں کے سبب گزشتہ پانچ سال سے ان سے ملاقات نہیں کرسکے ہیں۔

اپنے خط میں اسانج کا کہنا تھا کہ وہ فرانس کی وزیرِ انصاف کرسٹینا توبیرا کے ممنون ہیں جنہوں نے اپنی حکومت کو انہیں سیاسی پناہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔

اسانج کے قائم کردہ ادارے 'وکی لیکس' نے پانچ سال قبل امریکی حکومت کی خفیہ دستاویزات انٹرنیٹ پر جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا جو تاحال وقفے وقفے سے جاری ہے۔

ان دستاویزات کی اشاعت پر امریکہ خاصا برہم ہے اور امریکی حکام کا موقف رہا ہے کہ اس عمل سے امریکی مفادات اور سکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں اور امریکی شہریوں کی زندگیاں خطرات سے دوچار ہوئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG