رسائی کے لنکس

وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ صدر براک اوباما نے ٹیلی فون پر مسٹر اولان کو مبارکباد دی اور رواں ماہ کے اواخر میں جی ایٹ اور نیٹو اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ آنے سے قبل، وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی

اتوار کےروزہونے والے صدارتی انتخاب میں فرانس کےموجودہ صدر نکولس ساکوزی کو شکست دے کر سوشلسٹ پارٹی کے چیلنجر، فرانسوا ں اولان فرانس کے نئے لیڈر کے طور پر منتخب ہو کر سامنے آئے ہیں۔

انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ووٹنگ کی گنتی مکمل ہونے پر، سرکاری نتائج میں بتایا گیا ہے کہ مسٹر اولان کو 52فی صد ووٹ پڑے جب کہ مسٹر سارکوزی نے 48فی صد ووٹ لیے۔

ابتدائی اندازوں میں اپنی شکست کےامکان کے پیشِ نظر مسٹر سارکوزی نے اپنے چیلنچر سے رابطہ کرکے اپنی شکست تسلیم کی۔
بظاہر بے روزگاری میں اضافے پر فرانسیسی ووٹر برہم نظر آئے ، اور اِسی لیے وہ مسٹر سارکوزی کی ملمع سازی پر مبنی سیاسی اندازِ حکمرانی سے نالاں تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ اپنی شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

تقریباً گذشتہ 20برسوں کے دوران، مسٹر اولان بائیں بازو سے تعلق رکھنے والےپہلے منتخب فرانسیسی لیڈر ہیں۔

اُنھیں اچھی طبیعت کا مالک، پیشہ ور سیاستدان مانا جاتا ہے۔

اُنھوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایک روایتی سوشلسٹ قسم کے ٹیکس اور اخراجات کے پروگرام پر عمل پیرا ہوں گے، جس سے مراد امیر طبقے پر زیادہ ٹیکس لاگو کرنا ہے، تاکہ ریاست کے لیے زیادہ مالی وسائل پیدا ہوں اورملک کی مالی استطاعت میں اضافہ ہو۔

متوقع طور پر وہ یورپی یونین سے سادگی اپنانے کے اقدامات کے سلسلے میں مذاکرات کریں گے، جس مقصد کے حصول کے لیے وہ سب سے پہلے جرمن چانسلر انگلا مرخیل سے ملاقات کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما نے ٹیلی فون کے ذریعے مسٹر اولان کو مبارکباد دی، اور رواں ماہ کے اواخر میں جی ایٹ اور نیٹو اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ آنے سے قبل، وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی ۔

اس سے قبل، وزارت داخلہ کے اعداد و شمارکے مطابق، دن تین بجے تک 72 فی صد ووٹراپنا حق رائے دہی استعمال کرچکے تھے، جو پچھلے ماہ ہونے والے الیکشن کے پہلے مرحلے کے مقابلے میں اس وقت تک ووٹ دینے کی بہت زیادہ تعداد ہے۔

فرانس میں صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں ووٹروں نے اتوار کو اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

صدر سارکوزی کو اپنے پانچ سالہ دورِ اقتدار میں اپنائی گئی اقتصادی حکمت عملی اور اپنے طرز حکمرانی پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔

اُمور خارجہ کونسل سے منسلک تجزیہ کار چارلس کپچان کہتے ہیں کہ صدر سارکوزی اس مقبولیت سے محروم ہو چکے ہیں جو ماضی میں اُنھیں حاصل تھی۔

مسٹر اولاں ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں جو کئی سالوں تک سوشلسٹ جماعت کی قیادت کر چکے ہیں، لیکن اُنھوں وہ کبھی بھی کسی اعلیٰ سرکاری عہدے پر براجمان نہیں ہوئے۔

XS
SM
MD
LG