رسائی کے لنکس

صدر اوباما نے اپنے مختصر خطاب میں دکھ کا اظہار کیا ہے، اور یقین دلایا کہ اس آزمائشی گھڑی میں امریکہ فرانس کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔۔۔’کسی طور پر بھی، دہشت گرد کبھی اعلیٰ اقدار کی حامل اقوام کے حوصلے پست کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے‘

فرانسیسی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت پیرس کے کئی مقامات پر مسلح افراد نے گولیاں چلائیں ہیں اور دھماکے ہوئے ہیں؛ جب کہ بتایا جاتا ہے کہ شہر کے بتالان کنسرٹ ہال میں کچھ افراد کو یرغمال بنایا گیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق، حملوں میں 35 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جب کہ کئی درجن یرغمال بنائے گئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق، شہر کے گیارہویں ضلعے کی حدود میں واقع ریستوران کے اندر کم از کم ایک شخص نے خودکار ہتھیار سےگولیاں چلائیں۔

دوسرے مقام پر ایک دھماکہ ہوا، جس کے لیے کہا جاتا ہے کہ یہ شمالی پیرس میں نیشنل اسٹیڈیم کے قریب واقع ایک بار میں ہوا۔ اسٹیڈیم میں فرانس جرمنی کے ساتھ ایک فٹبال میچ کی میزبانی کر رہا تھا۔ ابھی یہ نہیں معلوم آیا یہاں کوئی شخص زخمی ہوا۔

فرانسیسی صدر فرانسواں اولاں یہ میچ دیکھ رہے تھے، جنھیں بحفاظت باہر پہنچا دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بحران سے نبردآزما ہونے کے لیے، صدر ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔

سی این این کی اطلاعات کے مطابق، کم از کم 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

واشنگٹن میں اپنے ایک مختصر خطاب میں، صدر براک اوباما نے دہشت گردی کے اِن واقعات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ اس آزمائشی گھڑی میں امریکہ فرانس کی حکومت اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ کسی طور پر بھی، دہشت گرد اعلیٰ اقدار کی حامل اقوام کے حوصلے پست کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

صدر اوباما نے ’آزادی اور اعلیٰ اقتدار‘ کے لیے فرانس کے ’تاریخی کردار‘ کی تعریف کی اور کہا کہ ’فرانس امریکہ کا دیرینہ اور قریبی اتحادی ہے‘۔

بقول اُن کے، یہ فرانس کے خلاف نہیں بلکہ بنی نوع انسان کے خلاف حملہ ہے، جس کی اُنھوں نے شدید مذمت کی۔

پیرس میں خطاب کرتے ہوئے، صدر اولاں نے ہنگامی حالات کا اعلان کرتے ہوئے، فرانس کی سرحدوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کیے۔

سی این این نے فرانسیسی ریڈیو کے موقعے پر موجود نامہ نگار سے براہ راست بات چیت میں بتایا ہے کہ حملہ آوروں نے 10 منٹوں تک خودکار ہتھیاروں سے گولیاں چلائیں۔

XS
SM
MD
LG