رسائی کے لنکس

برقع پر پابندی کا بل فرانسیسی پارلیمنٹ میں

  • ایلین کوب

فرانس میں کم ازکم 50 لاکھ مسلمان آباد ہیں، جوکسی بھی یورپی ملک میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ چھ سال پہلے فرانس نے سرکاری تعلیمی اداروں اور عمارتوں میں سرکے جحاب اور دیگر مذہبی علامتوں کے استعمال پر پابندی لگا دی تھی

فرانسیسی پارلیمنٹ میں عوامی مقامات پر مسلمان خواتین کے برقع کے استعمال پر پابندی کے بل پر بحث شروع ہوگئی ہے۔اس بل کا مقصد عوامی مقامات پر خواتین کو برقع یا نقاب پہننے سے روکنا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینا ہے۔

فرانس میں ایک اندازے کے مطابق چار لاکھ خواتین نقاب یا برقع پہنتی ہیں۔ ملک بھر میں برقع پہننے پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے ان دنوں جس بل پر بحث جاری ہے، اس کے بارے میں یہ توقع کی جارہی ہے کہ فرانسیسی پارلیمنٹ میں اس پر قانون سازی کے لیے چند روز تک بحث ہوگی۔ قانون کی منظوری کے بعد عوامی مقامات پر برقع کے استعمال پر مکمل پابندی لگ جائے گی۔

برقع پر پابندی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے ایک سیکولر معاشرے میں خواتین کے مساوی حقوق کے لیے فرانس کا عزم داؤ پر لگا ہوا ہے۔ حکمران جماعت یونین فار پاپولر موومنٹ ، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی متعدد تنظیمیں اور کئی مسلمان علما اس تجویز کی حمایت کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں فرانس میں مسلمان کمیونٹی کے اندر بنیاد پرستوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش ہے۔

فرانس میں کم ازکم 50 لاکھ مسلمان آباد ہیں، جوکسی بھی یورپی ملک میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ چھ سال پہلے فرانس نے سرکاری تعلیمی اداروں اور عمارتوں میں سرکے جحاب اور دیگر مذہبی علامتوں کے استعمال پر پابندی لگا دی تھی۔

مجوزہ بل کے تحت عوامی مقامات پر نقاب یا برقع پہننے والی خواتین کو 190 ڈالر جرمانہ ہوسکے گا۔ اور انہیں شہریت سے متعلق فرانسیسی عدالت کے سامنے بھی پیش کیا جاسکے گا۔

کسی ایسے شخص کو ایک سال قید اور 38 ہزار ڈالر کی سزائیں ایک ساتھ دی جاسکیں گی جو کسی عورت کو برقع پہننے پر مجبور کرے گا۔

پابندی کے بعض حامیوں کا کہنا ہے کہ اکثر خواتین اس لیے برقع پہنتی ہیں کیونکہ انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

خواتین کی ایک تنظیم این پی این ایس کی صدر سیہم حبشی کا کہنا ہے برقع کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ خواتین کے ساتھ ایک قدامت پسندانہ طرز عمل ہے۔

دوسری طرف ایسے افراد اور گروپ بھی موجود ہیں جن کا کہنا ہے کہ برقع سے خواتین یا فرانس کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کے نتیجے میں ، اپنی خواہش کا لباس پہننے کے معاملے میں مسلمان خواتین کے حقوق متاثر ہوں گے۔

ایک ہفتہ قبل یورپی پارلیمنٹ نے کہا تھا کہ وہ کسی خاص قسم کے لباس پر پابندی لگانے کے خلاف ہے۔ فرانس کی طرح ایک اور یورپی ملک بلجیم بھی عوامی مقامات پر خواتین کے برقع پہننے پر پابندی لگانے پر غور کررہاہے۔

تجزیہ کاروں کا کہناہے کہ پابندی کا بل منظور ہوجائے گا۔ بل پر ووٹنگ 13 جولائی کو متوقع ہے۔

XS
SM
MD
LG