رسائی کے لنکس

فرانس: علاقائی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کو شکست


انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل فرنٹ کی رہنما میرین لی پین

انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل فرنٹ کی رہنما میرین لی پین

نیشنل فرنٹ کی رہنما میرین لی پین نے انتخابات میں شکست تسلیم کی مگر اپنے مخالفین کے مہم کو ’’بہتان اور ہتک عزت‘‘ پر مبنی قرار دیا۔

فرانس میں علاقائی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق اعتدال پسند دائیں بازو کی جماعتیں تیزی سے مقبولیت حاصل کرتی ہوئی انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل فرنٹ کو شکست دے کر آگے ہیں۔

یہ انتخابات ایسے وقت منعقد ہوئے جب ایک ماہ قبل ہی پیرس میں داعش سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے مربوط حملے کیے تھے۔

ابتدائی نتائج کے مطابق سابق صدر نکولس سارکوزی کی رپبلیکنز پارٹی اور ان کے اعتدال پسند دائیں بازو کے اتحادی فرانس کے 13 میں سے سات علاقوں میں آگے ہیں جن میں پیرس اور اس کا نواحی علاقہ بھی شامل ہے۔

حکمران سوشلٹ پارٹی اور دائیں بازو کی دیگر جماعتوں نے پانچ علاقوں میں کامیابی حاصل کی جبکہ کورسیکا میں مقامی قوم پرستوں نے جیت پائی۔

گزشتہ ہفتے انتخابات کے پہلے مرحلے میں تارکین وطن مخالف اور یورپ مخالف نیشنل فرنٹ نے چھ علاقوں میں برتری حاصل کی مگر اتوار کو دوسرے مرحلے کے نتائج میں وہ ایک بھی علاقے میں جیتنے میں ناکام رہی۔

تاہم موجودہ اور اس سے پہلے ہونے والے مقامی انتخابات میں پارٹی کو کچھ علاقوں میں ملنے والے ایک تہائی یا اس سے زائد ووٹوں سے حالیہ سالوں میں اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

’’سوشلسٹ وزیر اعظم مینوئل والز نے اتوار کو کہا کہ ’’انتہائی دائیں بازو کا خطرہ کم نہیں ہوا ۔۔۔ میں (انتخابات کے) پہلے مرحلے اور ماضی کے انتخابات کو نہیں بھولا۔‘‘

سارکوزی نے بھی اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اس خطرے پر بات کی، ’’ہمیں اب فرانس کو درپیش اہم سوالات پر بحث کرنے کے لیے وقت نکالنا چاہیئے۔‘‘

اگرچہ پیرس اور اس کے نواحی علاقوں میں سارکوزی کی پارٹی نے کامیابی حاصل کی مگر پہلے مرحلے میں نیشنل فرنٹ دوسرے نمبر پر تھی۔

گزشتہ ماہ پیرس میں ہونے والے حملوں سے نیشنل فرنٹ کو اپنے اس پیغام کے لیے حمایت حاصل کرنے میں مدد ملی ہے کہ فرانس کو یورپی یونین سے نکل جانا چاہیئے، سکیورٹی بڑھانی چاہیئے اور تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو ان کے ملک میں واپس بھیج دینا چاہیئے۔

نیشنل فرنٹ کی فرانس میں بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث خیال ہے کہ مرکزی دھارے کی جماعتوں کو 2017 کے صدارتی انتخابات میں سخت مقابلے کا سامنا ہو گا۔

اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل فرنٹ کی رہنما میرین لی پین نے انتخابات میں شکست تسلیم کی مگر اپنے مخالفین کے مہم کو ’’بہتان اور ہتک عزت‘‘ پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ ہر الیکشن میں پہلے سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرنٹ کی کامیابی اٹل ہے۔

XS
SM
MD
LG