رسائی کے لنکس

مختلف ممالک میں رواں سال 199 صحافی جیلوں میں قید: رپورٹ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

نیویارک میں قائم تنظیم کا کہنا ہے کہ چین دوسرے سال بھی ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں 49 صحافیوں کو جیل میں بند کیا گیا جس کی ایک وجہ چین کی معیشت کے کمزور ہونے کی خبروں سے متعلق حساسیت کو قرار دیا گیا ہے۔

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم کا کہنا ہے کہ چین اور مصر ان ممالک میں سرفہرست ہیں جہاں صحافی جیلوں میں بند ہیں جسے بیجنگ اور قاہرہ کی طرف سےاختلاف رائے کو ختم کرنے اور ان خبروں کو محدود کرنا قرارد دیا گیا ہے جو ان کی نظر میں حکو مت مخالف ہیں۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ "سی پی جے" کی طرف سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال یکم دسمبر تک 28 ممالک میں 199 صحافیوں کو قید کیا گیا جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 221 تھی۔

نیویارک میں قائم اس تنظیم کا کہنا ہے کہ چین دوسرے سال بھی ان ممالک میں سرفہرست ہے جہاں 49 صحافیوں کو جیل میں بند کیا گیا جس کی ایک وجہ چین کی معیشت کے کمزور ہونے کی خبروں سے متعلق حساسیت کو قرار دیا گیا ہے۔

سی پی جے کا کہنا ہے کہ قاہرہ نے 23 صحافیوں کو قید میں رکھا ہے اور صدر عبدالفتح السیسی قومی سلامتی کے "بہانے" اختلاف رائے کو دبا رہے ہیں۔ مصر میں 2012 تک کوئی بھی صحافی اپنے کام کی وجہ سے جیل میں بند نہیں تھا۔

سی پی جے کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ ایران صحافیوں کو قید کرنے کے لیے ریاست مخالف الزامات کا استعمال کرتا ہے اگرچہ ایران میں قید صحافیوں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہو کر 19 رہ گئی جو کہ 2014 میں 30 تھی۔

جیل میں بند ان صحافیوں میں واشنگنٹن پوسٹ کے نامہ نگار جیسن رضائیاں بھی شامل ہیں جن کے بارے میں ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ انہیں جاسوسی کے مبینہ جرم کے تحت سزا سنائی گئی ہے۔ تاہم ان کی قید کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی گئی ہے جو اب 500 دنوں سے زیادہ ہو گئی ہے۔

صحافیوں کے تحفظ کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اریٹیریا " دنیا میں منصافانہ عدالتی کارروائی کی سب سے زیادہ خلاف ورزی کرنے والا " ملک ہے جہاں 17 صحافیوں کو قید کیا گیا جن میں کسی ایک پر بھی کھلے عام نہ تو کوئی الزام عائد کیا گیا اور نہ ہی انہیں کسی عدالت کے سامنے مقدمے کے لیے پیش کیا گیا۔

سی پی جے کا کہنا ہے کہ ترکی میں 14 صحافی قید ہیں جن میں وہ دو صحافی بھی شامل ہیں جن پر جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ الزام ان کی طرف سے اس رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد عائد کیا گیا کہ انقرہ کے انٹلیجنس اہلکاروں نے انسانی ہمدردی کی امداد کی آڑ میں شام میں ہتھیار منتقل کیے تھے۔

XS
SM
MD
LG