رسائی کے لنکس

’فریڈم ہاؤس‘ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق، شام میں برے برتاؤ اور لڑائی اور سعودی عرب میں سخت روی کے معاملات کے باعث، اِن دونوں ممالک کو اُن 10 ممالک کا درجہ دیا گیا ہے، جہاں سب سے کم شہری آزادی دستیاب ہے

جمہوریت نواز گروپ، ’فریڈم ہاؤس‘ کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال دنیا بھر میں شہری آزادی کی سطح میں گراوٹ آئی، جب کہ دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی ایسے علاقوں میں مقیم ہے جو محض جزوی طور پر آزاد ہے، یا پھر سرے سے آزاد ہی نہیں۔

واشنگٹن میں قائم اِس گروپ نے جمعرات کے روز جاری کردہ اپنی رپورٹ میں سیاسی حقوق اور شہری آزادی کے لحاظ سے 195 ممالک اور 14 علاقہ جات کی درجہ بندی کی ہے۔

شام میں برے برتاؤ اور لڑائی اور سعودی عرب میں سختی برتنے کے معاملات کے باعث، اِن دونوں ممالک کو اُن 10 ممالک کا درجہ دیا گیا ہے، جہاں سب سے کم شہری آزادی دستیاب ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر، مشرقِ وسطیٰ کے 83 فی صد لوگ ایسے حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں جو ’غیر آزاد‘ ممالک کے زمرے میں آتے ہیں۔

رپورٹ کے مصنف، آرچ پُڈنگٹن نے کہا ہے کہ شہری آزادیوں میں کمی لانے کی غرض سے، حکومتیں تشدد کے حربوں کے علاوہ دیگر طریقے استعمال کرتی ہیں۔

اُن کے بقول، ’سیاسی اشرافیہ ہمیشہ تشدد کے ہتھکنڈے استعمال نہیں کیا کرتی۔ اُنھیں لوگوں کو دیوار سے لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن، پھر بھی، وہ اس قابل ہوتی ہیں کہ سیاست پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ سکیں، اور سیاسی مخالفین کو ناکارہ بنا دیں‘۔

یورو ایشیا کا خطہ بھی اُن علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں کم ترین شہری آزادی دستیاب ہے، جہاں چار میں سے تین افراد ایسے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، جنھیں ’غیر آزاد‘ کہا جاسکتا ہے۔

رپورٹ میں اقلیتی گروپوں کے خلاف عقوبتوں میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے، مثلاً ہم جنس پرست، روس کے ساتھ ساتھ یوکرین میں ابلاغ عامہ کی آزادی کے خلاف پُرتشدد کارروائیاں روا رکھی جاتی ہیں۔

رپورٹ میں افریقہ کے بارے میں ملی جلی صورت حال کا ذکر کیا گیا ہے، جب کہ فریڈم ہاؤس میں مالی، روانڈا اور زمبابوے میں کچھ قدر بہتری کت آثار کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ تاہمم یوگنڈا، اور کشیدگی کے شکار جمہوریہٴ وسطی افریقہ اور جنوبی سوڈان میں کافی حد تک گراوٹ کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ 2013ء میں چین میں عدم برداشت کے ماحول میں اضافہ دیکھا گیا، اور یوں، آن لائن خطاب کو ہدف بنایا گیا اور سرگرم کارکنوں کے خلاف قید و بند کے حربے جاری رہے۔ انتخابات کے نتیجے میں پاکستان کو بڑھاوا ملا، لیکن افغانستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا میں شہری آزادیوں کا انحطاط جاری رہا۔

رپورٹ کے مصنف، پُڈنگٹن نے کہا ہے کہ آمر لیڈر حکمرانی کے انداز کے لحاظ سےباقیوں سے جدا نہیں ہیں۔

پُڈنگٹن کے بقول، ’اِس وقت، ہم ایسے عہد سے گزر رہے ہیں جہاں آمرانہ طرز کی حکمرانی کی شکار برادریاں اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگی ہیں؛ اور اس پر فخر کرنے لگی ہیں، جب کہ ماضی میں ایسا نہیں تھا؛ اور یوں، ایک بکھرے ہوئے قسم کا ایک اتحاد سا بن چکا ہے، یعنی اُن ممالک کا اتحاد جو آمرانہ ہتھکنڈوں پر عمل پیرا ہیں‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2013ء متواتر آٹھواں برس تھا، جب دنیا بھر میں شہری آزادی کی مجموعی صورتِ حال میں ابتری آئی۔
XS
SM
MD
LG