رسائی کے لنکس

فرانسیسی صحافی چین بدر


فرانسیسی صحافی ارسلا گوٹیئر

فرانسیسی صحافی ارسلا گوٹیئر

31 دسمبر کو چین چھوڑنے کے بعد وہ تین سال میں پہلی صحافی ہوں گی جنہیں زبردستی ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ 2012 میں الجزیرہ کے لیے کام کرنے والی امریکی صحافی ملیسا چن کو ملک بدر کیا گیا تھا۔

چین نے ہفتہ کو کہا ہے کہ وہ ایک فرانسیسی صحافی کی چین میں کام کرنے کے لیے صحافتی اسناد کی تجدید نہیں کرے گا جس کے بعد انہیں چین سے جانا ہو گا۔ اس صحافی نے مغربی چین کے مسلم علاقوں میں نسلی تشدد کو عالمی دہشت گردی قرار دینے کے سرکاری مؤقف پر سوال اٹھایا تھا جس کے بعد ان کے خلاف چینی ذرائع ابلاغ میں شدید مہم چلائی گئی۔

فرانسیسی میگزین ’لوبز‘ سے طویل عرصہ سے وابستہ اُرسلا گوٹیئر نے جمعے کی رات کہا تھا کہ انہیں اس اقدام کی توقع تھی اور وہ چین چھوڑنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

31 دسمبر کو چین چھوڑنے کے بعد وہ تین سال میں پہلی صحافی ہوں گی جنہیں زبردستی ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ 2012 میں الجزیرہ کے لیے کام کرنے والی امریکی صحافی ملیسا چن کو ملک بدر کیا گیا تھا۔

اُرسلا گوٹیئر نے کہا کہ ’’وہ مجھ سے ان چیزوں کے بارے میں معافی مانگنے کو کہہ رہے ہیں جو میں نے نہیں لکھیں۔ وہ مجھ پر وہ چیزیں لکھنے کا الزام عائد کر رہے ہیں جو میں نے نہیں لکھیں۔‘‘

ایک تحریری بیان میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے کہا کہ ارسلا اب مزید ’’’اس قابل‘‘ نہیں کہ انہیں چین میں کام کی اجازت دی جائے کیونکہ انہوں نے ’’دہشت گردی اور ظالمانہ کارروائیوں‘‘ کی حمایت کی ہے جن میں شہری ہلاک ہوئے اور انہوں نے اپنے الفاظ پر معافی مانگنے سے انکار کیا ہے۔

گوٹیئر نے ہفتے کو ان الزامات کو ’’احمقانہ ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو شہہ دینا اخلاقی اور قانونی طور پر غلط ہے۔ ’’اگر ایسا ہے تو میرے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ یہ سب لفاظی ہے۔ اس کا مقصد صرف مستقبل میں بیجنگ میں غیرملکی نامہ نگاروں کو باز رکھنا ہے۔‘‘

پیرس میں دہشت گرد حملوں کے کچھ دیر بعد ہی گوٹیئر نے 18 نومبر کو ایک مضمون لکھا تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ چین کی طرف سے پیرس سے اظہار یکجہتی کے کچھ درپردہ مقاصد ہیں کیونکہ بیجنگ اپنے اس مؤقف کی عالمی حمایت چاہتا ہے کہ سنکیانگ علاقے میں نسلی تشدد عالمی دہشت گردی کا حصہ ہے۔

گوٹیئر نے لکھا تھا کہ سنکیانگ میں ویغر برادری کی طرف سے کیے گئے کچھ پرتشدد حملے مقامی افراد نے کیے اور ان کے بیرونی روابط ہونے کے کوئی شواہد موجود نہیں۔ اس سے قبل بھی سکیورٹی اور چین کی سنکیانگ میں پالیسیوں پر نظر رکھنے والے کئی غیر ملکی تجزیہ کار یہ بات کہہ چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں تشدد غالباً بیجنگ کی علاقے میں ظالمانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

تاہم چین تشدد کا الزام دہشت گردی اور بیرونی روابط پر عائد کرتا ہے۔ گزشتہ سال انسداد دہشت گردی کی مہم کے دوران سنکیانگ کی ایک عدالت نے ایک ویغر دانشور کو چین کی علاقے میں پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے پر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

اپنے مضمون میں گوٹیئر نے سنکیانگ کے ایک دور دراز علاقے میں ایک کان میں مہلک حملے کے بارے میں لکھتے ہوئے کہا تھا کہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ ویغروں نے یہ حملہ اکثریتی ہان برادری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کے خلاف کیا تھا جن کے بارے میں ویغروں کا خیال ہے کہ وہ ان کے ساتھ بدسلوکی، ناانصافی اور استحصال کے مرتکب ہیں۔

اس مضمون پر فوراً سرکاری میڈیا اور چینی حکومت کی طرف سے سخت تنقید کی گئی اور چینی وزارت خارجہ نے مغربی میڈیا پر الزام عائد کیا کہ وہ تشدد کے واقعات پر رپورٹنگ میں دہرا معیار استعمال کرتا ہے۔ دو دسمبر کو وزارت کا کہنا تھا کہ ’’دیگر ممالک میں دہشت گردی کو دہشت گردی ہی کیوں کہا جاتا ہے جبکہ چین میں اسے نسلی اور مذہبی مسئلہ بتایا جاتا ہے؟‘‘

اس وقت تک چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ میں فرانسیسی صحافی کے خلاف توہین اور دھمکی آمیز مہم شروع کی جا چکی تھی جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ چین کے بارے میں گہرے تعصبات رکھتی ہیں اور انہوں نے چینی عوام کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔

جمعے کو صحافی نے کہا تھا کہ چین کی وزارت خارجہ نے ان سے ’’غلط اور نفرت آمیز الفاظ اور عمل سے چینی عوام کے جذبات کو مجروح کرنے پر‘‘ معافی مانگنے اور کھلے عام یہ بیان دینے کا مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس بات کا اقرار کرتی ہیں کہ سنکیانگ کے اندر اور باہر دہشت گرد حملے ہوئے ہیں۔

صحافی کے بقول ان سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ کسی بھی ایسی تنظیم سے دور رہیں جو ان کے معاملے کو چین میں صحافتی آزادی کی خلاف وزری کے طور پر پیش کرے۔

XS
SM
MD
LG