رسائی کے لنکس

فرانس کے صدر اولاند بھارت کے دورے پر


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اولاند اتوار کو بھارت کے مشرقی شہر چندی گڑھ پہنچے جہاں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ان سے باضابطہ ملاقات کر رہے ہیں۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے اتوار کو اپنا بھارت کا تین روزہ دورہ شروع کیا جس کے دوران اربوں ڈالر مالیت کے جنگی طیاروں کے معاہدے اور صاف توانائی اور انسداد دہشت گردی پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی راہ ہموار ہو گی۔

اولاند اتوار کو بھارت کے مشرقی شہر چندی گڑھ پہنچے جہاں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ان سے باضابطہ ملاقات کر رہے ہیں۔

چندی گڑھ شہر کا ڈیزائن 1950 میں سوئس فرانسیسی آرکیٹکٹ لے کوربیوزیئے نے بنایا تھا۔ چندی گڑھ ان تین شہروں میں سے ایک ہے جن کی ترقی میں فرانس معاونت فراہم کرے گا۔ ’سمارٹ سٹی‘ کہلانے والے ان شہروں میں صاف پانی کی فراہمی، مؤثر نکاسی آب اور پبلک ٹرانسپورٹ کی عمدہ سہولتیں موجود ہوں گی۔

چندی گڑھ میں اولاند اور فرانسیسی کاروباری شخصیات دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے بھارتی صنعتکاروں اور کاروباری افراد سے ملاقات کریں گے۔

2014 میں دونوں ملکوں کی تجارت کا حجم 8.6 ارب ڈالر تھا۔ بھارت فرانسیسی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ بھارت کی اقتصادی ترقی سے فائدہ اٹھائیں۔

اولاند ایک اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کر رہے ہیں جس میں دفاع، خارجہ امور، اقتصادیات اور ثقافت کے وزرا کے علاوہ درجنوں کاروباری شخصیات شامل ہیں۔

اولاند اتوار کی شام بھارت کے دارالحکومت دہلی جائیں گے۔ پیر کو وہ بھارتی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے جبکہ منگل کو وہ بھارت کے یوم جمہوریہ کے مہمان خصوصی ہوں گے۔ 66 سال قبل اس دن بھارت کے آئین کی منظوری دی گئی تھی۔

بھارت فرانس سے اپنی فضائیہ کے لیے 36 رافیل جنگی طیارے خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے جس کا اعلان گزشتہ اپریل میں صدر مودی نے اپنے دورہ پیرس کے دوران کیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات کے کئی دور ہوئے۔

بھارتی خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے انٹرویو میں اولاند نے اشارہ دیا کہ حتمی معاہدہ طے پانے میں ابھی کچھ اور وقت لگ سکتا ہے۔

گزشتہ ماہ پیرس میں عالمی موسمیاتی کانفرنس میں دونوں ممالک نے شمسی توانائی کے اتحاد کا اعلان کیا تھا۔

توقع ہے کہ دونوں ممالک انسداد دہشت گردی پر بھی بات چیت کریں گے جس میں مطلوب افراد کو ایک دوسرے کے حوالے کرنے کے عمل کو تیز کرنے اور شدت پسندی میں استعمال ہونے والے پیسے کی منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی کے اقدامات شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG