رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر: عید پر کرفیو، سکیورٹی فورسز سے جھڑپ میں دو مظاہرین ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں منگل کو ہونے والے بھارت مخالف مظاہروں میں کم ازکم دو افراد ہلاک اور 22 زخمی ہوگئے جب کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر تمام اضلاع میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔

کرفیو کے باعث تمام مرکزی عید گاہیں ویران تھیں لیکن بعض مقامات پر چھوٹی مساجد میں لوگوں کے نماز عید ادا کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

لگ بھگ ایک درجن مقامات پر لوگ بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ بانڈی پورہ اور شوپیاں میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے علاوہ پیلٹ گن (چَھروں والی بندوق کا) استعمال کیا۔

بانڈی پورہ میں ایک شخص آنسو گیس کا گولہ لگنے سے موت کا شکار ہوا جب کہ شوپیاں میں پیلٹ گن کے باعث ایک شخص کی موت واقع ہوئی۔

اس تازہ کرفیو کے نفاذ کا فیصلہ بظاہر علیحدگی پسند رہنماؤں کی طرف سے مرکزی شہر سرینگر میں اقوام متحدہ کے مبصر مشن تک مارچ کرنے کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا۔

پولیس نے ایک بیان میں بتایا کہ بھارتی کشمیر کے مختلف علاقوں کی بغیر ہواباز کے جاسوس طیاروں (ڈرون) اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔

جولائی کے اوائل میں ایک علیحدگی پسند نوجوان کمانڈر برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد یہاں مظاہروں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جس میں روز بروز شدت آتی گئی۔

اس دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں ہونے والی جھڑپوں میں کم ازکم 78 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

منگل کو کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت معطل رہی۔

XS
SM
MD
LG