رسائی کے لنکس

بوسٹن: زوخار کے دوست، متانوف کو ڈھائی برس قید کی سزا


وکلا (فائل)

وکلا (فائل)

اُن پر یہ جرم ثابت ہوا کہ اُنھوں نے 2013ء کے ہلاکت خیز حملے کی چھان بین کے دوران تفتیش کاروں سے دروغ گوئی سے کام لیا تھا۔

کرغیزستان کا ایک شہری جو بوسٹن میراتھون بم حملہ آور کا دوست رہا ہے، اُنھیں جمعرات کو وفاقی قید میں ڈھائی برس کی سزا سنائی جائے گی۔ اُن پر یہ جرم ثابت ہوا کہ اُنھوں نے 2013ء کے ہلاکت خیز حملے کی چھان بین کے دوران تفتیش کاروں سے دروغ گوئی سے کام لیا تھا۔

کار ڈرائیور، خیراللہ زوہن متانوف چوتھے شخص ہیں جو چیچن نسل کے سارنیف برادران ۔۔زوخار اور تمرلان۔۔ سے قربت رکھتے تھے۔ ان پر الزام تھا کہ ایسے میں جب دیسی ساختہ دو پریشر کوکر بموں سے حملہ کرکے تین افراد کو ہلاک اور 264 کو زخمی کرنے والے ملزمان کی تلاشی جاری تھی، اُنھوں نے چھان بین کرنے والوں سے غلط بیانی سے کام لیا۔

متانوف کا مقدمہ 19 اپریل، 2013ء کی صبح کا معاملہ ہے جب وہ میساچیوسٹس میں بوسٹن کے جنوب میں واقع برین ٹری کے پولیس تھانے گئے، جہاں اُنھوں نے بتایا کہ وہ سارنیف برادران کو پہنچانتے ہیں، جس سے ایک ہی رات قبل ایف بی آئی کی جانب سےواقعے کی نگرانی کے کیمرے کی تصاویر جاری کی گئی تھیں۔

اس حملے میں ملوث ہونے کے حوالے سے، متانوف پر کسی قسم کے کردار کا الزام نہیں تھا۔ اُنھوں نے مارچ میں اس بات پر اقبال جرم کیا کہ اُنھوں نے تفتیش کرنے والوں سے غلط بیانی سے کام لیا کہ وہ کس حد تک سارنیف برادران کو جانتے ہیں، جس میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ بم حملوں کے بعد اُس نے دونوں بھائیوں کے لیے رات کے کھانے کا بندوبست کیا۔ متانوف نے کہا کہ کھانے کے دوران اُنھیں سارنیف برادران کے کردار کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

مجرم کے اقبال جرم کے بعد 30 ماہ کی سزا پر رضامندی سے متعلق دستاویز میں اُن کے وکلا نے تحریر کیا ہے کہ اِن جرائم کے سرزد ہونے کے وقت، مسٹر متانوف پر کم عمری کے باعث خوف حاوی تھا۔ وہ نہ تو اُس وقت دہشت گرد تھے، نہ اب ہیں۔

جب متانوف نے اقبال جرم نہیں کیا تھا، اُنھیں مئی 2014ء میں گرفتار کیا گیا، اُنھیں 20 سالق قید کی سزا دی جاسکتی تھی۔

اکیس برس کے زوخار سارنیف کو بم حملے کرنے اور ایک پولیس اہل کار کو ہلاک کرنے کے جرم میں، اپریل میں سزا سنائی گئی تھی۔ اُنھیں اگلے ہفتے باضابطہ طور پر موت کی سزا دے دی جائے گی۔ تمرلان کی حملے کے وقت 26 برس عمر تھی، اُن کی ہلاکت اُس وقت ہوئی جب زوخار کی چوری کی گاڑی نادانستہ طور پر اُن کے اوپر گزر گئی، جس سے قبل پولیس کے ساتھ گولیوں کا تبادلہ ہوا، جس سے چند ہی گھنٹے قبل متانوف پولیس تھانے گیا۔

زوخار کے کالج کے تین دوست، تبادلے پر آئے ہوئے قزاق طلبا دائس قادربایوف اور عظمت تزایاکوف اور میساچیوسٹس کے کیمبرج کے طالب علم روبل فلیپوس کو اسی ماہ کے اوائل میں تین سے چھ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اُن پر چھان بین کے عمل میں مداخلت کا الزام تھا۔

XS
SM
MD
LG