رسائی کے لنکس

نتائج سے واضح طور پر ظاہر تھا کہ دوستوں کا بڑا حلقہ رکھنے والے افراد نے درد کو زیادہ دیر تک برداشت کیا تھا۔

دوست بنانا اور دوستی نبھانا ایک فطری عمل ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے دوست آپ کے درد کے لیے ایک قدرتی مداوا بھی ہیں کیونکہ سائنس دانوں کا یہ ماننا ہے کہ درد کش ادویات کھانے کے مقابلے میں بڑا حلقہ احباب رکھنا زیادہ بہتر ہو سکتا ہے۔

یہ بات ایک نئی تحقیق سے سامنے آئی ہے کہ دوستوں کا زیادہ بڑا حلقہ رکھنے والے لوگ درد کو کم محسوس کرتے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے درد اور سماجی حلقے کے سائز کے درمیان تعلق تلاش کرنے کے حوالے سے ایک تحقیق کی گئی ہے جس میں محققین کو پتا چلا کہ زیادہ دوستوں کے ساتھ میل جول رکھنے والے لوگوں میں درد برداشت کرنے کی صلاحیت زیادہ بہتر ہوتی ہے۔

'پین ٹالرنس پریڈیکٹس ہیومن سوشل نیٹ ورک سائز' نامی مطالعے میں محققین نے یہ بھی دیکھا کہ کیا زیادہ دوستوں کے ساتھ بات چیت کرنے والے لوگوں میں اینڈورفین (جسم کے مرکزی اعصابی نظام میں پیدا ہونے والا کیمیکل) کے اخراج کی سطح زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ درد کو کم محسوس کرتے ہیں؟

اینڈورفین ایک کیمیائی مادہ ہےجو سخت ورزش، جذباتی کشمکش اور درد کی حالت میں قدرتی طور پر خارج ہوتا ہے۔ یہ مادہ جذبات کے ساتھ منسلک ہے جو درد کے احساس کو کم کرتا ہے اور طمانیت اور آسودگی کا احساس دلاتا ہے۔

یہ تحقیق جریدہ 'نیچر' میں شائع ہوئی ہے۔ جس میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ ایکسپریمنٹل سائیکولوجی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹریٹ کی طالبہ اور تحقیق کی شریک مصنفہ کترینہ جانسن یہ دیکھنا چاہتی تھیں کہ کیا ہماری نیورو بائیولوجی (عصبی حیاتیات) کے فرق سے اس بات کی وضاحت میں مدد مل سکتی ہے کہ آیا کیوں ہم میں سے کچھ لوگ زیادہ بڑا سماجی حلقہ رکھتے ہیں۔

محقق کترینہ جانسن نے کہا کہ مجھےخاص طور پر دماغ کے ایک کیمیکل اینڈورفین میں دلچسپی تھی جیسا کہ گزشتہ مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ یہ کیمیکل انسانوں اور جانوروں دونوں میں سماجی تعلقات کو فروغ دیتا ہے۔

اسی طرح ایک دوسرا مقبول سائنسی نظریہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ دوستوں کے بات چیت کرنے سے ہمارے مثبت جذبات متحرک ہوتے ہیں اور دماغ اینڈورفین بناتا ہے جو اینڈورفین اپیٹ ریسپٹرس کے ساتھ مل کر درد کش اثر پیدا کرتا ہے اسی لیے اس کیمیکل کو قدرتی پین کلر کہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس نظریہ کو ٹیسٹ کرنے کے لیے ہم نے اس بات پر انحصار کیا ہے کہ اینڈورفین درد کے لیے ایک پین کلر مارفین سے بڑھ کر طاقتور دوا ہے ۔

مطالعے کے لیے محقق کترینہ اور ان کی ساتھی محققین کی ٹیم نے 100 بالغ افراد کو بھرتی کیا جن کی عمریں 18 سے 34 برس کے درمیان تھیں۔

شرکاء سے ان کے شخصیت اور سماجی تعلقات کے حوالے سے ایک سوالنامہ بھراویا گیا جبکہ دماغ میں اینڈورفین کی سرگرمی کا جائزہ لینے کے لیے ایک تجربے کے دوران شرکاء میں درد کی برداشت کو ناپا گیا ۔

محققین کے مطابق اگر یہ نظریہ درست تھا تو بڑے سماجی حلقے کے لوگوں میں درد کے لیے زیادہ برداشت ہونی چاہیئے تھی اور اس حوالے سے ہماری تحقیق سے پتا چلا کہ دوست واقعی درد بھگانے میں مدد کرسکتے ہیں۔

نتائج سے واضح طور پر ظاہر تھا کہ دوستوں کا بڑا حلقہ رکھنے والے افراد نے درد کو زیادہ دیر تک برداشت کیا تھا۔

نیز نتائج کے مطابق جسمانی طور پر فٹ افراد اور وہ لوگ جنھوں نے خود کو ڈپریشن کا شکار بتایا تھا ان میں کم دوست بنانے کا رجحان ملا ہے۔

جسمانی لحاظ سے فٹ افراد میں درد کو برداشت کرنے کی صلاحیت زیادہ تھی جس کی وضاحت کرتے ہوئے محقق کترینہ جانسن کا کہنا تھا کہ چونکہ جسمانی سرگرمیوں کی وجہ سے ان لوگوں میں اینڈورفین کے اخراج کو فروغ ملتا ہے، اسی لیے یہ لوگ سماجی حلقے کے بجائے ورزش کے مشاغل کے ذریعے اینڈورفین یا طمانیت کا احساس حاصل کر لیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک حالیہ تحقیق بتاتی ہے کہ اینڈورفین کا نظام نفسیاتی عوارض جیسا کہ ڈپریشن کے مریضوں میں متاثر دیکھا گیا ہے اور یہ اس بات کا جواب ہو سکتا ہے کہ کیوں دپریشن میں مبتلا لوگ اکثر خوشی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں اور خود کو لوگوں سے دور کر لیتے ہیں۔

تحقیق سے واضح ہوا کہ سماجی حلقہ کے سائز اور معیار کے ہماری جسمانی اور ذہنی صحت پر اثرات ہیں اور حتیٰ کہ یہ ہماری متوقع عمر کا تعین کرنے کے لیے ایک اہم عنصر ہو سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG