رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے

  • صلاح احمد

امریکی اخبارات سے

امریکی اخبارات سے

امریکہ کو زیادہ دیر افغانستان میں نہیں رہنا چاہیئے، تین امریکی سینیٹروں کا صدر اوباما کومشورہ

’نیویارک ٹائمز‘ کے ادارتی صفحے پر تین امریکی سینیٹروں نے صدر براک اوباما کومشورہ دیا ہے کہ امریکہ کو زیادہ دیر افغانستان میں نہیں رہنا چاہیئے۔

جیف مرکلی اور ٹام اُوڈل ڈیموکریٹ ہیں اور رینڈ پال ریپبلیکن۔ تینوں نے صدر اوباما کے پچھلے ماہ کے اِس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے کہ اگلے سال موسمِ گرما تک 30ہزار امریکی فوجی افغانستان سے نکال لیے جائیں گے، لیکن باقیماندہ تمام فوج 2014ء تک واپس بلانے پر اُنھیں اعتراض ہے۔ اُنھوں نے اپنے اِس یقین کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ میں یہ مقصد اگلے سال کے آخر تک حاصل کرنے کی صلاحیت ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ امریکہ زیادہ طاقتور ہوگا۔ اگر ہم یہ اعتراف کریں کہ ہم نے افغانستان میں کم و بیش اپنے تمام مقاصد حاصل کر لیے ہیں اور ہم اپنی فوجیں سرعت کے ساتھ واپس وطن بلالیں۔

اِن سینیٹروں کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے ماہرین کا مانناہے کہ افغانستان میں القاعدہ کا وجود بہت حد تک ختم کیا جاچکا ہے اور اب وہاں کم درجے کے 100سے بھی کم القاعدہ کے کارندے بچے ہیں۔

البتہ القاعدہ کا وجود بہت سے دوسرے ملکوں میں باقی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ امریکی فوج اور انٹیلی جنس ادارے بار بار ثابت کرچکے ہیں کہ وہ بغیر بھاری فوجی مداخلت کے دہشت گردوں سے نبرد آزما ہوسکتے ہیں۔

آخر میں اُن کا کہنا ہے کہ امریکی تاریخ کی اِس طویل ترین جنگ کا رُخ بدلنے میں بہت زیادہ دیر نہیں ہے اور ہماری بے شمار قومی ضروریات کے پیشِ نظر ہماری صدر سے درخواست ہے کہ وہ فوجیں واپس بلالیں۔

بغیرہواباز کےچلنے والے ڈرون طیارے کا پاکستان کے قبائلی علاقے میں بے دریغ استعمال ہوا ہے اور القاعدہ کے کئی سرکردہ لیڈر اور دہشت گرد اِس سے داغے جانے والے راکیٹوں کا نشانہ بنے ہیں۔

اب ’واشنگٹن پوسٹ ‘اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق ساری دنیا میں امریکی ڈرون کی طرح کے طیارے بنانے کے لیے زبردست مسابقت جاری ہے اور چین اور 50دوسرے ملک اِس دوڑ میں شامل ہیں۔

چین میں حال ہی میں ہوائی جہازوں کی ایک نمائش میں لوگوں کی دلچسپی کا مرکز ایک مسلح ڈرون جیٹ طیارہ تھا جِس کی جنگی صلاحیت کےمظاہرے پر تماشائی انگشت بدنداں رہے۔

اخبار کہتا ہے کہ دوسرے ملکوں میں جِس تیزی سے بغیر ہواباز کےچلنے والے ہوائی جہاز مقبول ہورہے ہیں اُس سے امریکی فوجی کامیابیاں اُجاگر ہوتی ہیں۔

دنیا بھر کی اسٹریٹجک سوچ میں تبدیلی آئی ہے اور بغیر ہواباز کے چلنے والے ہوائی جہاز کی مانگ بڑھ گئی ہے۔

پچاس سے زیادہ ملکوں نے یہ دیکھ بھال کرنے والے طیارے خرید لیے ہیں اور بہت سوں نے ملک کے اندر ہی ایسے مسلح طیارے بنانے کا پروگرام شروع کیا ہے، کیونکہ کوئی بھی ملک ہتھیاروں سے لیس ڈرون طیارے برآمد نہیں کرتا سوائے چند ایک سودوں کے، جو امریکہ اور اُس کے قریب ترین اتحادیوں کے مابین ہوئے ہیں۔

ہندوستان نے اِس سال اعلان کیا کہ وہ ایسے ڈرون بنا رہا ہے جو 30ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کریں گے اور میزائل داغ سکیں گے۔

پاکستان کا بھی چین سے ڈرون طیارے حاصل کرنے کا ادارہ ہے، اور اُس نے دیکھ بھال کے لیے کچھ طیارے پہلے ہی خرید لیے ہیں۔

اخبار’ لاس ویگس سن‘ اچھے استادوں کی اہمیت پر ایک اداریے میں کہتا ہے کہ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ اساتذہ کی ملک بھر میں کڑی تنقید ہو رہی ہے۔ اُن کو ماہانہ تنخواہ نہیں مل رہی۔ اُنھیں پرچے دیکھنے کے گھر پر بھی طویل وقت دینا پڑتا ہے اور اسکول کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنی جیب سے بھی خرچ کرنا پڑتا ہے اور اُن کی کلاسوں میں طلبہ کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ پبلک اسکولوں میں جو تعلیمی مسائل ہیں اُن میں سے ایک یہ ہے کہ استاد کا وہ احترام بحال ہو تاکہ اچھے اساتذہ وقت سے پہلے ریٹائر ہونے سے باز رہیں اور کم عمر کے اچھے اساتذہ بہتر مواقع کے لالچ میں پیشہ نہ چھوڑ دیں۔

اخبار کہتا ہے کہ بچوں کو پڑھانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اچھے اساتذہ کو اچھا معاوضہ دیا جائے اور بُرے استادوں کو نکال کر اچھے استاد مقرر کیے جائیں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG