رسائی کے لنکس

’کسی کے ساتھ انتخابی الائنس نہیں، سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے۔ صرف شہری علاقوں میں نہیں، اندرونِ سندھ سے بھی نشتیں جیتیں گے‘۔ ’ فرام دا پارٹی کیمپ‘ میں متحدہ قومی موومنٹ کے راہنما فیصل سبزواری سے گفتگو

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے ’عوام با اختیار‘ کے نعرے کے ساتھ اپنے 23-نکاتی انتخابی منشور کا اعلان کر دیا ہے۔

ایم کیو ایم نے ملک سے دوہرے نظام تعلیم کے خاتمے، تین ماہ میں مقامی حکومتوں کے انتخابات، نیب کی طرز پر صوبائی احتساب بیورو کے قیام، اور توانائی کے بحران جیسے قومی معاملات کے علاوہ ٹریفک کے نظام میں اصلاحات جیسے شہری و مقامی مسائل کے حل کو اپنے منشور کا حصہ بنایا ہے۔

تقریباً تمام سیاسی جماعتیں انتخابات کی تیاریوں میں ہیں اور ملکی سیاست میں جوڑ توڑ کا عمل جاری ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے راہنما فیصل سبزواری نے ’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’اِن دا نیوز‘ الیکشن سپیشل کے سیگمنٹ ’فرام دا پارٹی کیمپ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان کی جماعت وہ تمام سیٹیں پھر سے جیتنے میں کامیاب ہوگی جن پر اسے گزشتہ انتخابات میں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اندورنِ سندھ سے بھی وہ کم از کم دو نشستیں جیت سکتے ہیں۔

فیصل سبزواری نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف سے تاحال سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں ہوئی۔ لیکن، متحدہ قومی موومنٹ اپنی روایات کے مطابق کوشش کرتی ہے کہ سیاست میں بھی کسی کے ساتھ کوئی تعلق رہا ہو تو اسے برقرار رکھا جائے۔

انہوں نے مقامی میڈیا میں ہونے والی ایسے قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ مستقبل قریب میں متحدہ کو لیڈرشپ کرائسز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

انٹرویو سننے کے لیے نیچے دیے گئے آڈیو لنک پر کلک کیجیئے:

XS
SM
MD
LG