رسائی کے لنکس

روایتی ہوم ورک میں بچوں کی اپنی لگن شامل نہیں ہوتی۔ اور اس ہی لئے، اس کا فائدہ بھی نہیں ہوتا اور بچے اسے پسند بھی نہیں کرتے

اکثر بچوں اور ماں باپ کے بیچ اس طرح کی گفتگو سننے میں آتی ہے کہ بچہ پوچھتا ہے کہ وہ کھیل لے اور والدین کہتے ہیں کہ ہاں۔ لیکن، پہلے ہوم ورک کرلو۔

یا والدین کہتے ہیں کہ ہوم ورک کر لو، تو بچے کو اس کی پسندیدہ چیز کھانے کو ملے گی۔ یا، اسے اس کے بہترین دوست کے ساتھ کھیلنے کی اجازت ملے گی۔

لیکن، بہت سے بچے اور ان کے والدین بھی یہ پوچھتے دکھائی دیتے ہیں کہ گھنٹوں اسکول میں پڑھائی کے بعد، بچوں کو ہوم اورک کیوں دیا جاتا ہے۔

اس بات پر ماہرین کی آراء میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ بچوں کو ہوم ورک دیا جانا چاہئے یا نہیں؟

بچوں کی پرورش پہ لکھی گئی ڈاکٹر اسپوکس کی کتاب ’بے بی اینڈ چائلڈ کیئر‘ کے مطابق، والدین کو ہوم ورک اساتذہ کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے ،جس کے نتیجے میں، بچے محنت کی قدر جان سکیں گے اور والدین اپنے بچوں کے بارے میں بہت کچھ۔

کتاب کہتی ہے کہ اساتذہ تین وجوہات کی بنا پر بچوں کو ہوم ورک دیتے ہیں۔۔تاکہ، بچے اسکول کی کلاس میں سیکھے ہوئے سبق کی مشق کریں، بچے اگلی کلاس کے لئے تیار ہوں اور بچوں کو ان پروجیکٹس پہ کام کرنے کا موقع دیا جائے جن میں زیادہ وقت لگتا ہے یا جس میں اسکول سے باہر کے وسائل استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ بچے کلاس کے باہر کام کرنے کی عادت ڈالیں اور خود میں منظم طریقے سے وقت پر کام کرنے کے صلاحیت پیدا کریں۔ لیکن، ہر کام کی طرح ہوم ورک کا فائدہ بھی تب ہی ہوتا ہے جب بچوں کو ایک حد میں ہوم ورک دیا جائے۔

اسکول میں بچوں کی بہتر کارکردگی کے لئے کوشاں امریکی اداراہ ’نیشنل اسسو سی ایشن آف اسکول سائکولوجسٹس‘ کے ماہر نفسیات اور تعلیمی ماہر ہیرس کوپر کے حوالے سے کہتا ہے کہ 100 سے زائد تحقیق کے کام کا نتیجہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ چھوٹی جماعتوں میں ہوم ورک کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا، درمیانی جماعتوں میں کچھ فائدہ، البتہ بڑی جماعتوں میں اس کا کافی فائدہ ہوتا ہے۔

ادارے کے مطابق، ہوم ورک سے بچہ خود انحصاری اور ذمہ داری سیکھتا ہے اور وہ اسکول اور آگے کی زندگی میں کامیابی کے لئے وقت کا درست استعمال کرتے ہوئے پلانگ کے ساتھ اپنے مسائل حل کرنے کے قابل بنتا ہے۔

پاکستان میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے مصروف عمل ’ایجوکیشنل ریسورس ڈیویلپمنٹ سینٹر‘ کے سربراہ، سلمان آصف صدیقی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روایئی ہوم ورک میں بچوں کی اپنی لگن شامل نہیں ہوتی۔ اسی لئے، اس کا فائدہ بھی نہیں ہوتا اور بچے اسے پسند بھی نہیں کرتے۔

اُن کا کہنا تھا کہ روایتی ہوم ورک سوچ کو محدود کرتا ہے۔ جبکہ، ان کے خیال میں بچوں کو سوچ کو وسیع کرنے والے تحقیق و تسخیر کے کام ہوم ورک کے طور پر دئے جانے چاہئیں۔ مثال کے طور پر آسمان کا مشاہدہ کرنا کہ ستاروں کے چھرمٹ کن شکلوں کے ہیں؟ یا تھرمامیٹر کی مدد سے یہ دیکھنا کہ دن بھر میں درجہ حرارت اتار چڑھاوٴ کیسا ہے؟ گھر میں کیڑے کون کون سے ہیں؟ یا محلے میں پھول اور پودے کون کون سے ہیں؟ یا بچے سے کہا جائے کہ وہ اپنے والدین کا کسی کام میں ہاتھ بٹائے یا اپنے بڑوں سے کوئی کہانی سنے اور پھر اپنا تجربہ اور تجزیہ بیان کریں۔ اس طرح کے ہوم ورک سے بچے نے جو کچھ کلاس میں سیکھا ہے اس کو وہ اور بھی بہتر سمجھ پاتا ہے۔

’ایجوکیشنل ریسورس ڈیویلپمنٹ سینٹر‘ کے مطابق، اور ہر خاندان میں دادا، دادی، نانا، نانی اور والدین بچے کو بہت کچھ سکھا سکتے ہیں اور بچوں کی تعلیم و تربیت میں ان کا خاص کردار ہونا چاہئے۔

XS
SM
MD
LG