رسائی کے لنکس

ماہرین نے اپنی حالیہ تحقیق کے نتیجے میں بتایا ہے کہ پورے چاند کی پوری شکل انسان کی نیند کے قدرتی عمل پر منفی اثر ڈالتی ہے۔


اگر کسی رات آپ کو کروٹیں بدلنے پر بھی نیند نہ آئے تو ایک بار ضرور اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھ لیں کہ کہیں آسمان پر پورا چاند تو نہیں چمک رہا ہے کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ چودہویں کا چاند انسان کے سونے کے قدرتی عمل کو متاثر کرتا ہے۔
ماہرین نے اپنی حالیہ تحقیق کے نتیجے میں بتایا ہے کہ پورے چاند کی پوری شکل انسان کی نیند کے قدرتی عمل پر منفی اثر ڈالتی ہے۔
سائنسی رسالے' کرنٹ بیالوجی' میں شائع ہونے والی تحقیق میں ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان کے جسم میں ایک حیرت انگیز حیاتیاتی گھڑی موجود ہوتی ہے جسے سائنسدانوں نے circalunar clock کا نام دیا ہے۔ اس گھڑی کی ٹک ٹک پورے چاند کی شکل سے متاثر ہوتی ہے لہذا پورے چاند کی راتوں میں سونے کا عمل سست پڑ جاتا ہے اور نیند آنے میں وقت لگتا ہے یا پھر گہری نیند نہیں آتی ہے۔
تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چاند کی تیزدودھیا روشنی دراصل نیند کی خرابی کا باعث نہیں بنتی بلکہ اس کی وجہ حیاتیاتی گھڑی ہے جو ہمیں ہماری جین سے ملی ہے کیونکہ یہی حیاتیاتی گھڑی پرانے زمانے میں پورے چاند کی راتوں میں ہمارے آباؤاجداد کو خونخوار جنگلی جانوروں کے حملے سے محفوظ رکھنے کے لیے انھیں نیم بیداررکھتی تھی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ انسانی جسم میں موجود یہ حیاتیاتی گھڑی جنگلی جانوروں اور خصوصا سمندری مخلوق میں بھی موجود ہوتی ہے۔
'یونیورسٹی آف بیزل' کے محقیقین اور' سوئٹزرلینڈ سینٹر فارسلیپ میڈیسن' کے تعاون سے ہونے والی تحقیق میں 33 رضاکاروں نے حصہ لیا جنھیں سائنسی تجربہ گاہ کے ایک اندھیرے کمرے میں دو راتوں کے لیے سخت شرائط اور حساس آلات کی نگرانی میں سلایا گیا جبکہ ان کے کمروں میں چاند کی روشنی کا کوئی گذر نہیں تھا۔
اس تجربےمیں رضاکاروں کے دماغ کے کام کرنے کا عمل، نیند لانے میں مددگار ہارمون میلاٹونن کی شرح کےعلاوہ نیند آنے کے لیے درکار وقت، نیند کا دورانیہ اور نیند کی کیفیت کا بھی معائنہ کیا گیا۔
نتیجے سے ثابت ہوا کہ پورے چاند کی رات میں رضاکاروں نے نیند دیر سے آنے کی شکایت کی اور عام دنوں کے مقابلے میں نیند کا دورانیہ بھی 20 منٹ کم رہا۔ اس دوران دماغ کے کام کرنے کا عمل بھی 30 فیصد کم رہا جبکہ دماغ میں اندھیرے میں بننے والے ہارمون میلاٹونن کی شرح بھی کم رہی جس کی وجہ سے نیند بھی اچھی نہیں آئی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ بعض لوگوں کی نیند چاند کی شکل کے حوالے سے زیادہ حساس بھی ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سنئہ 2000 میں کی جانے والی اس تحقیق کا مقصد انسان کی نیند پر چاند کی شکل کے اثرات جاننا نہیں تھا بلکہ محقیقین یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ نیند کے عمل پرعمر اور جنس کے حوالے سے کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔
لیکن 13 برس بعد ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ پرانی تحقیق کے نتیجے سے حاصل ہونے والی معلومات کا از سرِنو جائزہ لیا اور یہ دیکھا جائے کہ آیا جن دنوں میں یہ رضاکار سونے کے تجربے سے گذرے ان دنوں میں چاند کی کیا شکل تھی ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک مکمل بلائنڈ ریسرچ تھی جس میں حصہ لینے والوں کو نہیں بتایا گیا تھا کہ اس تحقیق کا مقصد کیا ہے اور نہ ہی اسوقت محقیقن خود یہ جانتے تھے کہ بعد میں اس تحقیق کو چاند کی شکل کے حوالے سے جانچا جائے گا۔

بیزل یونیورسٹی کی پروفیسرسیلویا فرے کا کہنا ہے کہ،''ان کی تحقیق میں پہلی بار انسانی جسم میں حیاتیاتی گھڑی کی موجودگی کے بارے میں پتا چلا ہے اور اب تک کسی کویہ معلوم کے نہیں ہے کہ یہ ہمارے جسم کے کس حصے میں موجود ہے۔''
جبکہ تحقیق سے منسلک پروفیسر کاہوچن نے کہا کہ،''چاند کی ظاہری شکل انسان کی نیند پر اثرانداز ہوتی ہے چاہے اسے چاند نظر نہ بھی آرہا ہو اور نہ ہی اسے چاند کی شکل کے مرحلے کے بارے میں پتا ہو۔''
نیند کےماہربرطانوی ڈاکٹرنیل اسٹینلی کہتے ہیں کہ، ''ایک چھوٹی تحقیق کے نتیجے سے بے حد کارآمد معلومات حاصل ہوئی ہے۔''
ان کا کہنا تھا کہ چودہویں کے چاند کے حوالے سے بہت سی کہاوتیں اورقصہ کہانیاں سنائی جاتی ہیں اس لیے بظاہر یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں لگتی کہ اس کا اثر انسان پر پڑتا ہے یا پھر ہو سکتا ہے کہ بہت سی سنی سنائی کہانیوں کی طرح اس بات میں بھی تھوڑی سچائی موجود ہو۔
XS
SM
MD
LG