رسائی کے لنکس

امریکیوں میں مسلمانوں کے خلاف تعصب سب سے زیادہ: گیلپ سروے


مسلم خواتین

مسلم خواتین


دو تہائی امریکیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اسلام کے بارے میں برائے نام یا بالکل بھی علم نہیں ہے۔لیکن ایک تازہ جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ امریکیوں کی نصف سے زیادہ تعداد اس عقیدے کے بارے میں نا پسندیدہ خیالات رکھتی ہے اور اس جائزے میں لگ بھگ اتنے ہی امریکیوں نے اس کے پیروکاروں کے خلاف منفی خیالات کا اظہار کیا۔

گیلپ سنٹر کے زیر اہتمام رائے عامہ کے ایک نئے جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکی باشندے عیسائیوں، یہودیوں اور بدھوں کی نسبت مسلمانوں کے لیے ممکنہ طور پر دوگنا سے بھی زیادہ منفی جذبات رکھتے ہیں۔سروے سے معلوم ہوا کہ 40 فیصد سے زیادہ امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف معمولی تعصب رکھتے ہیں جب کہ 20 فیصد سے کم امریکیوں نے ایسے ہی جذبات دوسرے تین عقائد کے لوگوں کے بارے میں ظاہر کیے۔

ڈالیا موغید،گیلپ سنٹر میں مسلم اسٹڈیز کے شعبے کی ایکزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس سروے سے حیرت انگیز رجحان ظاہر ہوا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ روایتی سوجھ بوجھ تو یہی کہتی ہے کہ جو لوگ بہت زیادہ مذہبی ہوتے ہیں جو اپنے عقیدے پر بہت زیادہ عمل کرتے ہیں اور وہ دوسرے عقائد کے لوگوں کے لیے زیادہ روادار ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں اس جائزے سے یہ پتا چلا کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے

جائزے سے ظاہر ہوا کہ جن لوگوں نے یہ بتایا تھا کہ وہ کسی بھی قسم کی مذہبی عبادت میں ہفتے میں ایک سے زیادہ بار شرکت کرتے ہیں، ان میں مسلمانوں کے لیے تعصب کے اظہار کا امکان سروے میں شامل دوسرے افراد کی نسبت دوگنا زیادہ تھا۔

اگرچہ جائزے میں شامل اکثریتی امریکیوں نے کہا کہ وہ اسلام کے بارے میں ناپسندیدہ رائے رکھتے ہیں، موغید کا کہنا ہے کہ اس جائزے میں اس حوالے سے کیے جانے والے سابقہ جائزوں کی نسبت بہت زیادہ بہتری ظاہر ہوئی ہے۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ حال ہی میں کیے گئے دوسرے جائزوں سے معلوم ہوا تھا کہ مسلم اکثریتی ملکوں نے امریکہ کی جانب زیادہ مثبت جذبات کا اظہار کرنا شروع کر دیا ہے۔

موغید کہتی ہی ہیں کہ بین العقائد رواداری میں بہتری کی ایک وجہ امریکی صدر اوباما کی جانب سے امریکیوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے درمیان افہام و تفہیم بڑھانے کی کوششیں بھی ہو سکتی ہیں

سنٹر فار امیریکن اسلامک ریلیشنز کے ابراہیم ہوپر کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ امریکیوں کو ان کے عقیدے ے بارے میں تعلیم دے کر مسلمانوں کے تاثر کو بہتر بنانے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کا ادارہ قران کریم کے ایک لاکھ سے زیادہ نسخے مقامی ریاستی اور قومی سطح کے امریکی راہنماؤں میں تقسیم کرنے کی مہم پر کام کر رہا ہے تاکہ اسلام کے بارے میں ان کے علم میں اضافہ کیا جائے اور اس مذہب کے بارے میں منفی تاثرات کو کم کیا جاسکے

XS
SM
MD
LG