رسائی کے لنکس

بھارت کے انتخابات میں عام آدمی پارٹی کا کردار


راج موہن گاندھی مہاتما گاندھی کے نواسے ہیں اور اب وہ بھی عام آدمی پارٹی کا حصہ ہیں۔

بھارت میں پیر سے شروع ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات میں ’عام آدمی پارٹی‘ پر بھی لوگوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔

راج موہن گاندھی مہاتما گاندھی کے نواسے ہیں اور انھوں نے ایک سوشل ورکر اور پروفیسر کے طور پر اپنی زیادہ تر زندگی گزاری، لیکن اب وہ عام آدمی پارٹی کا حصہ ہیں۔

’’ہم تو اپنی کتابیں لکھنے میں خوش تھے، ہماری کتابیں لوگوں نے پسند بھی کیں ہیں۔۔۔ ہم نے 12 سال امریکہ میں پروفیسری بھی کی۔‘‘

جب کچھ مہینے قبل دہلی کے صوبائی انتخابات میں اروند کیجر وال کی عام آدمی پارٹی کو زبردست کامیای ملی تو راج موہن گاندھی کو لگا کہ سیاست میں لوٹا جا سکتا ہے۔

’’لوگوں میں آشا ہی نہیں تھی کہ کرپشن ایک سچ مچ میں الیکشن کا ایشو بن سکتا ہے۔۔۔۔دنیا بھر میں کرپشن کی بات ہوتی ہے لیکن ایسا مانا جاتا ہے کہ کرپشن کے پلیٹ فارم میں کوئی جیت یا ہار نہیں ہوتی ہے لیکن یہاں ہو گئی اور پھر اتنے ہزاروں نوجوانوں نے اپنا وقت دیا پیسہ دیا اور اس پارٹی کو بنایا تو میں نے اپنا فرض سمجھا۔ میں بھی کرپشن کے خلاف 50 سال سے کوشش کر رہا ہوں تو جب یہ موقع ملا تو میں نے سوچا کہ میرا یہ فرض ہے کہ (اس طاقت کا حصہ بنوں)۔‘‘

بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ سیاست سے دور رہنے والے لوگ جنھیں ہم شریف لوگ بھی کہتے ہیں ان کو سیاست کی طرف واپس لانا عام آدمی پارٹی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

’’کچھ بالکل نئی طرح کے لوگ اُمیدواروں کے روپ میں سامنے آئے ہیں۔‘‘

صحافی راہول دیو کا بھی یہی ماننا ہے۔ ’’اب ہر پارٹی میں ایسے لوگ شامل ہوئےہیں یہ ایک بہت بڑا بدلاؤ ہے۔ اس بدلاؤ کا جو اثر آپ کو ان انتخابات میں دکھائی دے گا۔‘‘

دہلی میں عام آدمی پارٹی نے جس طرح سے حکومت چلائی اور پھر چھوڑی اس سے کئی ناراض ہیں۔

’’جس طریقے سے انھوں نے دھرنا دیا ایک مکھ منتری کے روپ میں اور اس کے بعد سرکار چھوڑ دی اور باہر چلے گئے اس کا کافی برا اثر ہوا ہے۔‘‘

عام آدمی پارٹی اس بار قومی اسمبلی یعنی لوک سبھا کے انتخابات میں سیٹیں جیتے یہ نا جیتے لیکن مبصرین کا ماننا ہے کہ اُس نے بھارت کے سیاسی منظر کو بدل دیا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG