رسائی کے لنکس

سیاچن گلیشیئر کے گیاری سیکٹر سے ہفتہ کو برفانی تودے تلے دبے ایک اور فوجی کی لاشیں نکال گئیں اور گزشتہ 12 ہفتوں سے جاری امدادی سرگرمیوں میں اب تک نکالے جانے والے فوجیوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے۔

گیاری سیکٹر میں سکس ناردرن لائٹ انفنٹری کے بٹالین ہیڈکوارٹرز پر 7 اپریل کو طلوع آفتاب سے قبل ضخیم تودہ گرنے سے اس اہم تنصیب پر تعینات 140 فوجی اور عملے کے دیگر ارکان برف اور پتھروں کی 200 فٹ تک بلند چٹان تلے دب کر ہلاک ہو گئے تھے۔

دنیا کے اس بلند ترین محاذ جنگ پر 7 اپریل کو پیش آنے والے سانحے کے بعد پاکستان میں خاص طور پر ایک بار پھر ان مطالبات میں اضافہ ہوا کہ پاکستان اور بھارت سیاچن کو غیر فوجی علاقہ قرار دے کر اپنی افواج کو وہاں سے واپس بلا لیں۔

سیاچن گلیشئر کے تنازع کو حل کرنے کے سلسلے میں رواں ماہ راولپنڈی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سیکرٹری دفاع سطح کے مذاکرات بھی ہوئے۔ جن کے اختتام پر دونوں ملکوں نے سیاچن کے تنازع کو خوش اُسلوبی سے حل کرنے کے لیے ’’نتیجہ خیز‘‘ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

سیاچن کا تنازع 1984ء میں اُس وقت شروع ہوا تھا جب کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے شمالی سرے پر واقع اس برفانی پہاڑ پر پیش قدمی کر کے بھارتی افواج نے تین اہم دروں پر قبضہ کر کے اونچے مقامات پر چوکیاں قائم کر لیں۔ جس کے ردعمل میں پاکستان نے بھی اپنی افواج گلیشیئر پر تعینات کر دیں اور تب سے آج تک دونوں ملکوں کے آٹھ ہزار فوجی اس لڑائی میں اپنی جانوں سے ہاتھ دو بیٹھے ہیں۔

XS
SM
MD
LG