رسائی کے لنکس

اسرائیل نے کہا ہے کہ پیر کے روز اُس کے جنگی طیاروں نے حماس کے 50 سے زائد اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے بم باری کی، جس میں اسلحہ تیار کرنے والے دو ٹھکانے اور چھ زیر زمین راکیٹ لانچر مراکز شامل تھے

اقوام متحدہ کے سربراہ، بان کی مون اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری قاہرہ روانہ ہو رہے ہیں، جِس کا مقصد غزہ میں اسرائیل اور حماس شدت پسندوں کے مابین دو ہفتے سے جاری لڑائی میں فوری جنگ بندی کے لیے نئی ثالثی کی کوشش کرنا ہے۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ پیر کے روز اُس کے جنگی طیاروں نے حماس کے 50 سے زائد اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے بم باری کی، جس میں اسلحہ تیار کرنے والے دو ٹھکانے اور چھ زیر زمین راکیٹ لانچر مراکز شامل تھے۔

حماس نے اسرائیل پر 50 سے زائد راکیٹ فائر کیے اور سرنگوں کے ذریعے لڑاکوں کو اسرائیل کے اندر داخل کرانے کی کوشش کی۔ تاہم، اسرائیلی افواج نے شدت پسندوں کو دیکھ لیا، جن میں سے 10 کو ہلاک کردیا۔

فلسطینی اہل کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں غزہ کے 500 سے زائد مکین ہلاک ہوچکے ہیں، جس میں اتوار کے چھاپے کے دوران ایک ہی گھر میں 25 افراد کی ہلاکت بھی شامل ہے، جن میں ماسوائے ایک کے تمام لوگوں کا ایک ہی خاندان سے تعلق تھا۔ زندہ بچ جانے والے، صابری ابو جمیع نے اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔

صابری کے بقول، ’پچیس افراد!۔ کیا اس سے یہ پتا نہیں چلتا کہ اسرائیل کتنا کٹھور ہو سکتا ہے؟ کیا ہم جھوٹے ہیں؟ اس کے شواہد مردہ خانوں میں پڑی لاشیں ہیں۔ یہ ثبوت رفریجیٹروں میں موجود ہے۔‘

اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل شہری ہلاکتوں سے بچنے کی تمام ممکنہ کوششیں کر رہا ہے۔ تاہم، اُنھوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی ذمہ دار حماس ہے، کیونکہ وہ یہودی ریاست کے اندر راکٹ فائر کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

بقول اُن کے،’اِس کی ذمہ دار خود حماس ہے جس کی جارحیت کا نتیجہ سامنے ہے۔ ہم تمام کوششیں کر رہے ہیں کہ وہاں کے باسیوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے، جب کہ حماس اس بات کی تمام تر کوششیں کر رہا ہے کہ غزہ کے لوگوں کو نقصان پہنچے۔ ہمیں ہر بے گناہ کو پہنچنے والی تکلیف کا افسوس ہے۔ لیکن، اُنھیں تکلیف پہنچ رہی ہے، جس کا حماس ہی ذمہ دار ہے، صرف حماس‘۔

XS
SM
MD
LG