رسائی کے لنکس

غزہ کی پٹی میں 20ماحول دوست اسکول تعمیر ہوں گے

  • گیب جوزلو
  • انجم گل

گرین اسکول

گرین اسکول

ماحول دوست اسکولوں کی ہر عمارت میں 800بچے تعلیم حاصل کریں گےاور اِن پر تقریباً دو ملین ڈالرخرچ آئیں گے: ذرائع

فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والا اقوامِ متحدہ کا اِمدادی ادارہ، غزہ کی پٹی میں20 کے قریب ماحول دوست اسکول کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اِس منصوبے کے آرکیٹیکٹ کا کہنا ہے کہ خود انحصاری کےتحت بننے والی اسکول کی عمارتیں ماحول دوست ہونگی جو پناہ گزیں طلبا کے لئے عزت و وقار کا باعث ہونگی۔

منصوبے پر کام کرنے والے منتطمین نے جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں اپنے منصوبے کا خاکہ پیش کیا۔ ماحولیاتی تبدیلی کے مباحثے میں فلسطینی علاقے ہمیشہ ہی نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے مطابق، فلسطینی علاقے کاربن ڈائی اکسائیڈ کے اخراج میں دنیا میں ایک سو سینتیسویں نمبر پر ہیں۔

غزہ کی پٹی میں کام کرنے والے ادارے’ انرا‘ کے پروگرام سپورٹ کوآرڈینیٹر رابرٹ سٹرائیک کہتے ہیں کہ ہمارے پاس تقریباً

240اسکول ہیں، جن میں دو لاکھ تیس ہزار بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور تقریبا 40000بچے اسکول میں داخلے کا انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں۔

ماحول دوست ا سکولوں کی ہر عمارت میں800بچے تعلیم حاصل کریں گےاور ان پر تقریباً دو ملین ڈالرخرچ آئیں گے۔ منصوبے کے مطابق آئندہ سالوں میں یہاں بیس اسکول تعمیر کئے جائیں گے۔

اس منصوبے پر کام کرنے والے آرکیٹیکٹ ماریو کُوچی نیلا کا کہنا ہے کہ غزہ میں مشکل حالاتِ زندگی ، ماحول دوست منصوبوں کے لئے اسے ایک آئیڈیل علاقے کےطور پر پیش کرتے ہیں۔

کُو چی نیلا کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں دنیا کے مشکل ترین علاقے غزہ میں کام کرنا واقعی مشکل ہے۔ یہ ایک طرح سے مستقبل میں تباہی کا دہانہ ہے۔ یہاں سب لوگ یہ بات کرتے ہیں کہ مستقبل کیا ہو گا۔ آئندہ دنوںمیں بے تحاشہ لوگوں پر مشتمل آبادی سے متعلق مسائل شدت سے سامنے آئیں گے۔ یہ سب مسائل غزہ میں پہلے سے ہی موجود ہیں مثلاً قدرتی وسائل تک رسائی میں مشکلات ، توانائی حاصل کرنے میں دقت، پانی حاصل کرنا دشوار، وغیرہ۔


ایک ایسی جگہ پر جہاں پینے کا90فی صد پانی صاف نہیں ہے تو ایسے میں یہ اسکول، بارش کے پانی کو جمع کر کے اسے صاف کرنے کے لئے ریت اور درخت کی جڑوں سے کام لیں گے۔ گرمیوں میں یہاں درجہ حرارت چالیس ڈگری سیل سیلشیس تک پہنچ جاتا ہے۔ کُوچی نیلا کا کہنا ہے یہ سکول ایک طرح سے ہوائی جھیل پر بنے ہونگے، جس سے پتھروں سے بنے فرش پر نسبتاً ٹھنڈی ہوا گردش کرے گی۔ اسکول کی چھتیں اونچی بنائی جائیں گی، تا کہ گرم ہوا اوپر جا کر باہر نکل جائے۔

کوچی نیلا کا کہنا ہے کہ سکول کے لئے بنائے گئے اُن کے ڈیزائن کے مطابق، نئی ٹیکنالوجی کو مشرق وسطی میں طویل عرصے سے تعمیر کے لئے استعمال کئے جانے والے طریقوں سے ملا کر بنایا جائے گا۔

’انرا‘ کے مطابق پہلاا سکول آئندہ بارہ مہینوں میں تعمیر ہو جائے گا ، لیکن پورے منصوبے کی تکمیل کے لئے مزید فنڈ اور تکنیکی مہارت کی ضرورت ہو گی۔

XS
SM
MD
LG