رسائی کے لنکس

غزہ پر اسرائیلی حملے کا ایک سال

  • لوئس ریز

غزہ پر اسرائیلی حملے کا ایک سال

غزہ پر اسرائیلی حملے کا ایک سال

ایک سال پہلے اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر زمینی حملہ کیا تھا۔ یہ حملہ 22 دن جاری اس حملے کا مقصد یہ تھا کہ غزہ سے جنوبی اسرائیل پر راکٹوں کے حملے روکے جائیں۔ اسرائیل اور مصر کی طرف سے غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی جاری ہے اور وہاں سیمنٹ، فولاد، اور شیشہ نہیں جا سکتا جس کی وجہ سے جنگ سے متاثر ہونے والے افراد اپنے گھروں کی مرمت نہیں کر سکتے۔

اسرائیل حملے کو ختم ہوئے ایک سال گذر چکا ہے لیکن23 سالہ فراج سامونی کے زخم اب بھی تازہ ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اسرائیلی سپاہیوں نے اس کے والد کو کس طرح ہلاک کیا۔ ’’میرے والد نے اپنے ہاتھ اوپر اٹھا لیے۔ پھر اسرائیلی سپاہیوں نے ان کا نشانہ لے کر گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ انھوں نے پہلے ان کے کندھے کو اور پھر ان کے سر کو نشانہ بنایا۔ پھر انھوں نے ان کے سارے جسم پر گولیاں برسانی شروع کر دیں۔‘‘

اس خاندان کا گھر مسمار کر دیا گیا۔ وہ فرد جو پورے خاندان کے لیے روزی کماتا تھا ، ہلاک ہو چکا تھا۔ اسرائیلی حملے میں سامونی گھرانے کے کُل 29 افراد ہلاک ہوئے ۔

فلسطینی لیڈروں اور انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اس حملے میں 1400 فلسطینی ہلاک ہوئے جب کہ اسرائیل کہتا ہے کہ ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1,166 ہے اور 13 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔

بین الاقوامی امداد کے باوجود حملے کی تباہی سے بحالی ممکن نہیں ہو سکی ہے ۔ اب اپنی اور اپنے بچوں کی ذمہ داری فراج کی والدہ زہوی کے ناتواں کندھوں پر آن پڑی ہے۔ وہ کہتی ہیں’’کچھ بھلے لوگوں نے ہماری کچھ مالی مدد کی۔ میں نے گھر کو دوبارہ بنانا چاہا لیکن مجھے پتہ چلا کہ میرے شوہر پر کچھ لوگوں کا قرض ہے جو مجھے ادا کرنا ہے ۔ میں جتنا قرض ادا کر سکتی تھی، وہ میں نے ادا کر دیا۔‘‘

زہوی کے پاس اب جو تھوڑی بہت رقم باقی بچی تھی وہ تعمیراتی سامان خریدنے کے لیے ناکافی تھی۔ پھر بھی انھوں نے کسی نہ کسی طرح دو کمروں پر چھت ڈال لی۔ وہ کہتی ہیں’’اب ہم صرف چائے اور روٹی سے پیٹ بھرتے ہیں۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے سر پر چھت ہے ۔ اہم ترین بات یہی ہے کہ ہمارے پاس رہنے کو گھر موجود ہے۔‘‘

نزدیک کے اسرائیلی قصبے، سدورت کے رہنے والوں کی زندگی میں اسرائیلی حملے سے کچھ سکون آیا ہے ۔ یہ ہیں سدورت کےشہری کے بقول’’ہم تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ اب یہاں بڑا سکون ہے اور یہاں رہنے والے لوگ خود کو پہلے سے زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔‘‘

جنگ کے بعد سے غزہ سے اس قصبے پر گرنے والوں راکٹوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے ۔ یہاں رہنے والے کہتے ہیں کہ اب وہ زیادہ آرام کی نیند سوتے ہیں۔
اگرچہ سدورت کے شہریوں کی زندگی نسبتاً پر سکون ہو گئی ہے لیکن بعض لوگوں کو ڈر ہے کہ یہ سکون قائم نہیں رہ سکے گا۔ ان کا کہنا ہے’’اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق تصفیے کے لیے تیار ہوں اور جہاں تک مجھے نظر آتا ہے اس وقت صورت حال یہ نہیں ہے ۔‘‘

غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ حماس پکڑے ہوئے اسرائیلی سپاہی کو رہا کرے۔وہ حماس سے یہ ضمانت بھی چاہتا ہے کہ عسکریت پسند عناصر، تعمیراتی سامان سےبنکر اور ہتھیار نہیں بنائیں گے جو اسرائیل پر حملے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

فراج کا گھر تباہ ہو چکا ہے، ان کے والد رخصت ہو گئے اور ان کا گھرانہ بھوک سے پریشان ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ کسی حل کے لیے مذاکرات کیے جائیں۔ وہ کہتے ہیں’’اگر کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو یہ یہاں کے لوگوں کے لیے اچھا ہو گا کیوں کہ اس دوران ہم سب مر چکے ہیں۔ ہر کوئی نیم مردہ ہے۔ اگر آپ ان پر گولے برساتے ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیوں کہ ان لوگوں پر گولے برسانے کا کیا فائدہ ہے جو پہلے ہی مر چکے ہیں۔‘‘

حماس کا مطالبہ ہے کہ اسرائیلی سپاہی کی رہائی کے عوض اسرائیل کو ہزاروں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنا ہوگا۔جنگ کے خاتمے کے ایک سال بعد اس مسئلے کا حل ہنوز ایک موہوم امید ہے۔

XS
SM
MD
LG