رسائی کے لنکس

صحافی طلعت حسین کا اسرائیلی حملے کا آنکھوں دیکھا بیان

  • نفیسہ ہودبھائے

غزہ کی پٹی

غزہ کی پٹی

نجی پاکستانی ٹی وی چینل ‘آج ’ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، طلعت حسین نے بتایا ہے کہ پیر کو غزہ کے لیے امداد لے جانے والے چھ بحری جہازوں کے بیڑے پر اسرائیلی کارروائی کُل 30منٹ کی تھی، جِس دوران 19افراد ہلاک اور 60زخمی ہوئے، جِن میں سے 20شدید زخمی ہیں۔

اُنھوں نے یہ بات اردن پہنچنے پر بدھ کو ‘ریڈیو آپ کی دنیا ’سے ٹیلی فون پر خصوصی گفتگو میں کہی۔

طلعت حسین نے بتایا کہ وہ ترکی کے جہاز ‘ماوی مارمرا’ پر سوارتھے جب اسرائیلی افواج نے اُس پر حملہ کیا۔ ‘اُس وقت چار بجے تھے۔ میں ٹی وی چینل کے لیے اپنی خبر بھیجنے کی تیاری کر رہا تھا، کہ سیٹلائٹ کا سلسلہ منقطع ہوگیا، اور اسرائیلی فوج کی کشتیاں قریب آنے لگیں۔’

حملے کا منظر بیان کرتے ہوئے، اُنھوں نے بتایا: ‘ اسرائیلی فورس ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اُتری۔ لیز رگنز اُن کے ہاتھ میں تھیں۔ جہاز میں اُترتے ہوئے اُنھوں نے وارننگ شاٹز فائر کیے اور اُس کے بعد اُنھوں نے 30منٹ کے آپریشن میں 19افراد کو ہلاک کیا، 60 کو زخمی کیا، جس میں سے 20شدید زخمی ہیں۔ 30منٹ میں اُنھوں نے 80افراد کے اوپر قاتلانہ حملہ کیا۔ ہر منٹ میں چار افراد کی یا تو جان لے رہے تھے، یا اُن کو زخمی کر رہے تھے۔’

اُنھوں نے کہا کہ اِس واقعے کے چشم دید گواہ صرف وہ نہیں بلکہ تقریباً 60-70کے قریب لوگ ہیں جواپَر ڈیک پر تھے، اور تقریباً 150کے قریب لوگ ہیں جو لوئر ڈیک پر تھے۔ اس کے بعد جو ہوا اُس کے تو وہ تمام گواہ ہیں جو 600کے قریب لوگ حراستی مرکز میں ہیں۔

اِس سوال پر کہ کن افراد کو گرفتار اور کِن کو رہا کیا گیا ہے، طلعت حسین نے کہا کہ عرب ممالک کے افراد جِن کے پاس ویزا نہیں تھے وہ ترکی واپس جانا نہیں چاہتے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان، ملائشیا اور انڈونیشیا اُن اسلامی ممالک میں سے ہیں جِن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔‘ اِس لیے، ہمیں نام نہاد طور پر بے دخل نہیں کیا جاسکتا تھا۔’

اُنھوں نے بتایا کہ شاہ عبداللہ کے کہنے پر‘ہمیں اردن آنے کی اجازت دی گئی ’ اور مغربی کنارے سے ہوتے ہوئے اردن میں داخل ہوئے۔ ‘ہمیں بتایا گیا ہے کہ ابھی بھی 400کے قریب افراد اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ شاید اگلے دو دن میں اُن کو وہاں سے نکال دیا جائے گا۔’

ڈیموکریٹ پارٹی کے سنیٹرا جان کیری کے مشیر، شاہد احمد خان نے بوسٹن سے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اِس واقعے پر امریکی اور یہودی حلقوں میں کافی تشویش پائی جاتی ہے۔

XS
SM
MD
LG