رسائی کے لنکس

اگر کساد بازاری کا موجودہ رجحان جاری رہا تو پانچ سال سے بھی کم عرصہ میں یہ مقبوضہ فلسطینی علاقہ رہائش کے قابل نہیں رہے گا۔

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت اور ترقی کی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقہ چھ سال میں پہلی مرتبہ کساد بازاری کا شکار ہوا ہے اور اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو پانچ سال سے بھی کم عرصہ میں یہ علاقہ رہائش کے قابل نہیں رہے گا۔

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت اور ترقی میں فلسطینی لوگوں کی امداد کے کوآرڈینیٹر محمود الخفیف نے کہا کہ ’’معیشت میں تقریبا نصف فیصد پوائنٹ کی کمی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں بے روزگاری میں خاطرخواہ اضافہ ہوا۔ مقبوضہ علاقے میں گزشتہ سال بے روزگاری 30 فیصد تھی۔ غزہ میں صورتحال کافی خراب ہے اور بے روزگاری کی شرح 44 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ نوجوان خواتین میں بے روزگاری بہت زیادہ ہے اور 10 میں سے آٹھ عورتوں سے زائد کے پاس ملازمت نہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 72 فیصد گھرانے غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور اقوام متحدہ کے اداروں کی طرف سے تقسیم کی گئی خوراک پر مکمل انحصار کرنے والے فلسطینی مہاجروں کی تعداد پچھلے 15 سالوں میں 72 ہزار سے بڑھ کر نو لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ آٹھ سال میں اسرائیل کے محاصرے اور گزشتہ چھ سالوں میں تین فوجی آپریشنوں نے غزہ کی پیداواری صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے۔

الخفیف نے کہا کہ اس سال کے پہلے چار ماہ میں اسرائیل نے فلسطینیوں کو تقریباً 70 کروڑ مالیت کے محصولات کی ادائیگی روک دی جو اسرائیل نے اکٹھے کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے اسے فلسطینی اتھارٹی پر دباؤ ڈالنے کے حربے کے طور پر استعمال کیا۔

’’یہ محصولات فلسطین کی کل آمدن کے 75 فیصد حصے پر مشتمل ہیں۔ یہ فلسطین کے سرکاری اخراجات کا 50 فیصد پورا کر سکتے ہیں۔ درحقیقت اس رقم سے تمام سرکاری تنخواہوں کی ادائیگی کی جاسکتی ہے۔‘‘

رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ کے لیے عالمی امداد بہت اہمیت کی حامل ہے اگرچہ اس سے ترقی کے فقدان اور فلسطینیوں کی غربت پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔

اقوام متحدہ نے امدادی اداروں اور ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پچھلے سال قاہرہ میں ایک کانفرنس میں کیے گئے وعدوں کو پورا کریں۔ اس کا کہنا ہے کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے پانچ ارب ڈالر امداد کا وعدہ کیا گیا جس میں سے صرف 27 فیصد ادائیگی ہوئی ہے۔

XS
SM
MD
LG