رسائی کے لنکس

امریکہ اور کئی مغربی ممالک دہشت گرد گروپوں کو عالمی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اور اس ضمن میں عرب ممالک سے زیادہ تعاون کے خواہاں ہیں۔

امریکہ کے صدر براک اوباما سعودی عرب کے دورے کے دوران خلیج تعاون کونسل کے رہنماؤں سے جمعرات کو ملاقات کر رہے ہیں، جس میں اختلافات کے باوجود خطے میں استحکام کے لیے قریبی تعاون کے قابل عمل راستوں پر غور کیا جائے گا۔

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے چھ ممبران اور صدر اوباما نے ایک روزہ سربراہ اجلاس میں شرکت کی، جس میں سیاسی عدم استحکام کے علاوہ شام، یمن، عراق اور لیبیا میں لڑائی پر خصوصی توجہ رہی۔

امریکہ کی ترجیح مسائل کا سیاسی حل ہے، خاص طور پر یمن اور شام میں جہاں، جنگ بندی تو جاری ہے لیکن یہ بظاہر زیادہ دیرپا نہیں ہے۔

لیکن بعض خلیجی ممالک خاص طور پر سعودی عرب فرقہ وارانہ کشیدگی کو سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔

’جی سی سی‘ گروپ میں سعودی عرب کے علاوہ کویت، عرب امارات، قطر، بحرین اور اومان شامل ہیں۔

علاقائی تشدد کے واقعات پر غور کے بعد یہ گروپ، داعش اور القاعدہ کے خلاف کارروائی میں اضافے پر غور کرے گا۔

امریکہ اور کئی مغربی ممالک دہشت گرد گروپوں کو عالمی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں اور اس ضمن میں عرب ممالک سے زیادہ تعاون کے خواہاں ہیں۔

’جی سی سی‘ گروپ کے سربراہ اجلاس کے دوران آخری مرحلے میں ایران اور اُس کی طرف سے خطے میں عدم استحکام کی مبینہ کارروائیوں سے متعلق معاملات پر غور کیا جائے گا۔

یمن میں حوثی باغیوں کو تہران کی حمایت حاصل ہے، جب کہ سعودی عرب نے حوثی باغیوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

توقع ہے کہ امریکہ اپنے خلیجی اتحادی ممالک کے لیے اضافی فوجی اعانت کا اعلان کر سکتا ہے۔

بدھ کو سعودی عرب پہنچنے کے بعد صدر براک اوباما اور سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کے درمیان دو گھنٹے تک ہونے والی ملاقات میں دیگر اُمور کے علاوہ ایران کی خطے میں ’’اشتعال انگیز‘‘ سرگرمیوں کے سبب پیدا ہونے والے چیلنجوں پر بھی غور کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG