رسائی کے لنکس

ایک سماجی تحقیق کے نتائج کے مطابق، خواتین باس جنھیں کارکنوں کی ہائرنگ اور بیدخلی سمیت تنخواہ سے متعلق معاملات کے لیے صریحی اختیارات حاصل تھے، وہ پاورفل اختیارات رکھنے کے باوجود، نفسیاتی مسائل کا شکار تھیں

ایک نئی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ باس کی کرسی پر براجمان خواتین کے لیے ان کا عہدہ ذہنی دباؤ کی علامات کو بڑھانےکا سبب بنتا ہے۔ لیکن، دوسری طرف اس کا ہم منصب مرد اعلی سطح کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کےساتھ ، عام طور پر زیادہ با اعتماد ہوتا ہے۔

ٹیکساس یونیورسٹی میں سوشیالوجی ڈپارٹمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر، تیتیانا پیدروسکا نےکہا ہےکہ خواتین باس جنھیں کارکنوں کی ہائرنگ اور بیدخلی سمیت تنخواہ سے متعلق معاملات کے لیے صریحی اختیارات حاصل تھے، وہ پاورفل اختیارات رکھنے کے باوجود، نفسیاتی مسائل کا شکار تھیں۔ ایسی خواتین میں ڈپریشن کی علامات ان خواتین کی نسبت زیادہ تھیں جو جاب کے ساتھ اختیارات کی مالک نہیں تھیں۔

لیکن، تحقیق کے نتیجے کا دوسرا پہلو اس لحاظ سے دلچسپ رہا کہ اس عورت باس کے مقابلے میں مرد باس میں ڈپریشن کی علامات ایسے ملازمت پیشہ مردوں کے مقابلے میں خاصی کم تھی جن کا جاب با اختیار نہیں تھا۔

'جرنل ہیلتھ اینڈ سوشل بی ہیویر' کے دسمبر کے شمارے میں چھپنے والے مطالعے کا عنوان 'جینڈر،جاب اتھارٹی اور ڈپریشن' ہے جس کے لیے 1,300 مرد اور 1,500 خواتین کو بھرتی کیا گیا ۔

مطالعے کے معاون مصنف تیتیانا پیدروسکا نے کہا کہ ملازمت پیشہ خواتین جن کے پاس اختیارات نہیں تھے، ان میں ذہنی تناؤ کی علامات کی سطح ان مردوں کے مقابلے میں اوسطاً زیادہ تھی جو جاب پر اختیارت کے مالک نہیں تھے۔ لیکن، اس نتیجے کے برعکس، اثر و رسوخ کے ساتھ باس کے عہدے پر فائز خواتین میں ڈپریشن کی علامات شدید تھیں۔

محقق تیتیانا نے کہا ہے کہ ہمارا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ جاب پر صریحی اختیارات کی مالک خواتین میں ایسی خصوصیات عیاں ہوئیں جنھیں مضبوط دماغی صحت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً، وہ زیادہ تعلیم یافتہ تھیں، ان کی آمدنی زیادہ تھی اور خود مختاری کی اعلی سطح کے ساتھ ساتھ وہ اپنی ملازمت سے مطمئین تھیں۔ ان تمام وجوہات کے باوجود، ان کی دماغی صحت عام ملازمت پیشہ خواتین کی دماغی صحت سے بدتر تھی۔

سماجی سائنس کی اس تحقیق کے مطابق یہاں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کونسی وجوہات ہیں جو باس خواتین کی پریشانیوں کو بڑھاتی ہیں اور اس کے برخلاف مرد باس کو پر اعتماد بناتی ہے۔ اس گُتھی کو سلجھانے کے لیے مصنفین نےایک نظریہ اخذ کیا ہے۔

اس صنفی اختلاف کی وجوہات کے طور پر محقق تیتیانا کہتی ہیں کہ اثر و رسوخ کی مالک خواتین کو معاشرے میں مضبوط قائد کی حیثیت سے زیادہ دعویدار اور پر اعتماد خیال نہیں کیا جاتا۔ لیکن، جب کبھی خواتین 'باس' کی خصوصیات کے مطابق عمل کرتی ہے، تو اسے غیر نسوانی رویہ قرار دیتے ہوئے منفی انداز میں دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح، دقیانوسی وجوہات اس کے دائمی ڈپریشن کی وجوہات بنتی ہیں۔

لیکن، اس نتیجے کے برخلاف دوسری طرف مرد باس کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا ہے۔ اسے دقیانوسی تصورات اور مزاحمت کا سامنا نہیں ہوتا۔ جیسا کہ اکثر خواتین کو کرنا پڑتا ہے۔ بلکہ، باختیار عہدے پر مرد باس کو دیکھنا معاشرے کے ایک عام تصور پر پورا اترتا ہے۔ اسی لیے، مرد قیادت کو زیادہ تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ ہی بات اس کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے اور اسے ایک رہنما کی حیثیت سے زیادہ بااثر اور زیادہ بااختیار بناتی ہے۔

محققین نے کہا ہے کہ مطالعہ کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ ملازمت پیشہ با اختیار خواتین کے نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے صنفی امتیاز پر بات کرنا ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG