رسائی کے لنکس

امریکی فوجی چیف کے دورہ پاکستان کا اعلان

  • عمیر ریاض

General James Mattis, Commander, US Central Command

General James Mattis, Commander, US Central Command

جنرل میٹس نے سینیٹرز کو بتایا کہ نیٹو حملوں کے باوجود امریکہ پاک افغان سرحد پر پاکستان کے ساتھ تعاون برقرار رکھے ہوئے ہے اور سرحدی معاملات پر ہونے والے معمول کے اجلاس بھی مختلف سطحوں پرہورہے ہیں۔

منگل کو امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے روبرو بیانِ حلفی دیتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جیمز میٹس نے قانون سازوں کو بتایا کہ وہ نیٹو رسد کی بحالی کے معاملے پر پاکستانی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے لیے آئندہ 10 روز میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس نومبر کے اواخر میں امریکی افواج نے افغانستان کی سرحد پہ واقع پاکستانی چوکیوں پر حملہ کیا تھا جس کے بعد اسلام آباد حکومت نے نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے راستے افغانستان جانے والی رسد معطل کردی تھی۔

حملے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات تنائو کا شکار ہیں اور پاکستان نے نیٹو رسد کی بحالی پاک امریکہ تعلقات کے پارلیمانی جائزے سے مشروط کر رکھی ہے جو تاحال مکمل نہیں ہوسکا ہے۔

سینیٹ کمیٹی کے روبرو اپنے بیان میں جنرل میٹس کا کہنا تھا کہ امریکہ کو افغانستان سے اپنی افواج کے انخلا کے لیے پاکستان کے زمینی راستوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کے دورے سے باہمی تعلقات کی بحالی کی جانب پیش رفت ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی فوجی جنرل کا کہنا تھا کہ اس وقت افغانستان میں موجود امریکی افواج کو فضائی، سمندری اور افغانستان کے شمال میں واقع ممالک کے راستے رسد پہنچائی جارہی ہے۔

جنرل میٹس نے سینیٹرز کو بتایا کہ نیٹو حملوں کے باوجود امریکہ پاک افغان سرحد پر پاکستان کے ساتھ تعاون برقرار رکھے ہوئے ہے اور سرحدی معاملات پر ہونے والے معمول کے اجلاس بھی مختلف سطحوں پرہورہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG