رسائی کے لنکس

بھارت میں ناول نگار جارج اورویل کے مکان کو بچانے کی کوشش

  • پرویز حفیظ

بھارت میں ناول نگار جارج اورویل کے مکان کو بچانے کی کوشش

بھارت میں ناول نگار جارج اورویل کے مکان کو بچانے کی کوشش

مشرقی ہند کے صوبہ بہار میں واقع انگریزی کے مشہور ناول نگار جارج اورویل کے زبوں حالی کا شکار پیدائشی بنگلے کو بچانے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ نیپال کے بارڈر سے ملحق بہار کے پسماندہ موتیہاری ٹاؤن میں برطانوی عہد کے اس چھوٹے سے مکان میں ایک صدی قبل اس بچے کا جنم ہوا تھاجس نے بڑے ہوکر Animal Farm اور 1984 جیسے عظیم ناول لکھے، جن کا شمار انگریزی ادب کے فن پاروں میں ہوتا ہے۔

اورویل کے والد رچرڈ بلئیر برطانوی دور حکومت میں انڈین سول سروسز میں ایک اہم عہدے پر فائز تھے اور شعبہٴ افیم کے سربراہ تھے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں وہ موتیہاری میں تعینات تھے جہاں رہائش کے لیے حکومت کی جانب سے انہیں ایک بنگلہ ملا تھا۔ 25 جون 1903ء میں اورویل اسی گھر میں پیدا ہوئے تھے۔ پیدائش کے وقت ان کا نام ایرک آرتھر بلیئرتھا۔ اوائل عمری میں ہی وہ اپنی والدہ کے ساتھ انگلستان منتقل ہو گئے تھے۔ بعد میں انھوں نے جارج اورویل کے نام سے اپنا ادبی سفر شروع کیا اور دیکھتے دیکھتے انگریزی ادب میں اپنا ایک منفرد مقام بنا لیا۔ اورویل محض 47 سال کی عمر میں 1950 میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

اورویل اپنی زندگی میں کبھی دوبارہ اپنی جائے پیدائش واپس نہیں آئے۔ موتی ہاری کا ان کا آبائی بنگلہ حوادثِ زمانہ کا شکار ہو کر وقت کے گرد و غبار میں چھپ گیا تھا۔ اچانک 2003ء میں جب جارج اورویل کی صد سالہ سالگرہ منائی جارہی تھی تب لوگوں کو پتا چلاکہ انگریزی کا مشہور ادیب بہار میں پیدا ہوا تھا۔ راتوں رات بہار کے اس پچھڑے ہوئے مقام کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہو گئی۔

اورویل کے اس مکان کے جو اپنی بے کسی پر آنسو بہا رہا تھا، گویا دن پھر گئے۔ موتی ہاری جیسی جگہ میں جہاں اورویل کی تصانیف تو دور عام لوگ انگریزی ادب سے ناواقف ہیں، اس عظیم مصنف کی سو سالہ سالگرہ نہایت دھوم دھام سے منائی گئی۔ اس موقع پر حکومت اور غیر سرکاری اداروں نے شکستہ مکان کی مرمت اور آرائش کا اعلان کیا۔ بنگلے کے احاطے میں اورویل کا یادگاری مجسمہ نصب کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا۔ تاہم بہت جلد تمام اعلانات بھلا دیے گئے اور کسی بھی منصوبے کی تکمیل نہیں کی گئی۔

اب اتنے عرصے بعد بہار حکومت کی نیند ٹوٹی ہے۔ صوبائی حکومت میں شعبہٴ ثقافت کے سکریٹری وویک سنگھ نے یہ اعلان کیا ہے بہار حکومت 2010ء کے اوائل میں اس تاریخی مکان کی مرمت کا کام شروع کر دے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’’دنیا کے اتنے بڑے ادیب کی جائے پیدائش کو کسی حالت میں ہم کھونے نہیں دیں گے۔ حالانکہ اس گھر کی حالت بے حد خستہ ہے پھر بھی حکومت نے اسے بچانے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے۔‘‘

بہار حکومت اس مکان میں اورویل کی یاد میں ایک میوزیم بھی بنانا چاہتی ہے تاکہ غیر ملکی سیاحوں کو موتی ہاری کا دورہ کرنے کی ترغیب ملے۔

XS
SM
MD
LG