رسائی کے لنکس

پاکستانی اسپورٹس چینل'جیوسوپر' پرپابندی، حکومت کی تردید


پاکستانی اسپورٹس چینل'جیوسوپر' پرپابندی، حکومت کی تردید
پاکستانی اسپورٹس چینل'جیوسوپر' پرپابندی، حکومت کی تردید

اس سے قبل ورلڈ کپ کے حقوق کے حوالے سے بھی چینل اور کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ تنازع کے باعث جیو سوپر کی نشریات بند ہوچکی ہیں ۔ چینل کا کہنا تھا کہ نشریات کیبل آپریٹرز نے پیمرا کے کہنے پر بند کی ہیں تاہم ایسوسی ایشن نے اس سے انکار کیا تھا

پاکستان میں اسپورٹس کےنجی چینل’جیوسوپر‘کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حکومت نےچینل کی پاکستان سے نشریات پرپابندی لگادی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہےکہ پابندی میں پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا بھی ہاتھ ہےجبکہ حکومت کا کہنا ہےکہ اِس معاملےسےاُس کا کوئی تعلق نہیں۔
بدھ کی شام چینل نے اعلان کیا کہ حکومت اور پیمرا نے جیو سوپر کی نشریات بند کردیں۔ اس بندش سے ورلڈ کپ کے بعد عوام کھیلوں کے مقابلے دیکھنے سے محروم ہو جائیں گے۔ انتظامیہ کایہ بھی کہنا ہے کہ جیو سوپر کوچار اپریل کے حکومتی حکم نامہ پر پاکستان سے نشریات بندکی گئیں جوجیو سوپر کے خلاف حکومتی انتقامی کارروائی ہے۔
دوسری جانب حکومت کے ترجمان نے اسلام آباد میں جیو گروپ کی مینجمنٹ کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے، پاکستان میں نشریات کے قانونی حقوق رکھنے والے کسی غیر ملکی چینل کو بند کرنے کے ضمن میں حکومت کے پاس کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ بدھ کو جاری ہونے والے بیان میں حکومتی ترجمان نے کہا کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ متعلقہ چینل کے اپنے نظام میں کوئی ٹیکنیکل ایشو ہو۔
ترجمان نے کہا کہ کیبل آپریٹرز کو جیو سوپر کے سگنل موصول نہیں ہو رہے تھے جو بظاہر متعلقہ ٹیلی ویژن چینل کی انتظامیہ کی طرف سے روکے گئے ہیں۔ حکومت نے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) پر زور دیا ہے کہ وہ ایک کمیٹی تشکیل دے جو معاملہ کی مکمل جانچ پڑتال کرسکے۔
واضح رہے اس سے قبل ورلڈ کپ کے حقوق کے حوالے سے بھی چینل اور کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ تنازع کے باعث جیو سوپر کی نشریات بند ہوچکی ہیں ۔ چینل کا کہنا تھا کہ نشریات کیبل آپریٹرز نے پیمرا کے کہنے پر بند کی ہیں تاہم ایسوسی ایشن نے اس سے انکار کیا تھا۔
جیو سوپر سے پہلے جیو نیوز بھی پابندیوں کا شکار ہوتا رہا ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں جیو نیوز پردبئی سے نشریات جاری رکھنے پر پابندی لگا دی تھی ۔ یہ پابندی ستتر روز تک جاری رہی ۔
جیو سوپر کو اپنے آغاز کے وقت بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا یہاں تک کہ ایک اہم کرکٹ میچ کے براہ راست پیش کئے جانے کے دن سرکاری ٹی وی نے جیو سوپر کو اپ لنکنگ کی سہولت دینے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد جیو سوپر وہ میچ نہ دکھا سکا تھا۔
چینل کی جانب سے تنازعات کو سپریم کورٹ تک لے جایا جاتا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں ہدایات جاری کی تھیں کہ کوئی بھی کیبل آپریٹر جیو سوپر کے علاوہ دوسرے کسی چینل کے ذریعے کرکٹ ورلڈ کپ 2011 کے میچز نہ دکھائیں۔

XS
SM
MD
LG