رسائی کے لنکس

پاکستانیوں کی مسیحا 'رُوتھ فاؤ'


پاکستان میں جذام کی بیماری کیخلاف جنگ لڑنے والی جرمن خاتون رُوتھ فاؤ

پاکستان میں جذام کی بیماری کیخلاف جنگ لڑنے والی جرمن خاتون رُوتھ فاؤ

’جب میں نے پاکستان آکر کراچی میں کام شروع کیا تو سب سے زیادہ غریب طبقے کے افراد کو خوشی ہوئی کہ کوئی خاتون ان کی مدد کو آئی ہے‘۔جرمن خاتون روتھ فاؤ کی وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو۔

پاکستان میں جذام کی بیماری کے خلاف جنگ کی اصل مسیحا جرمن خاتون کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ 60 کی دہائی میں پاکستان آنے والی جرمن خاتون 'روتھ فاؤ' نے اپنی ساری زندگی پاکستان میں انسانیت کی خدمت کیلئے وقف کر دی۔

یہ روتھ فاؤ کی خدمات کا ہی نتیجہ ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں جذام کی بیماری کا تقریباً خاتمہ ہو چکا ہے۔ جذام کے کیسز کی تعداد ہزاروں سے چند سو پر آگئی ہے۔

روتھ نے 1960ء کے عشرے میں پاکستان کے شہر کراچی میں ایک چھوٹے سے کلینک سے علاج معالجے کی مفت سہولیات فراہم کرنے کا آغاز کیا۔ کراچی میں چھوٹے سے کلینک سے جذام کے مریضوں کا علاج شروع کیا

کراچی میں چھوٹے سے کلینک سے جذام کے مریضوں کا علاج شروع کیا

1970 میں اس چھوٹے سے کلینک کو باقاعدہ ایک لیپروسی سینٹر اور اسپتال کا درجہ مل گیا۔

جذام کو عام زبان میں کوڑھ کی بیماری بھی کہا جاتا ہے جو عموماً ٹی بی کی بیماری کے بعد ایک خاص جراثیم کے حملے کی وجہ سے ہوتی ہے اگر بروقت علاج نہ ہو تو مریض کا پورا جسم اس جلدی بیماری سے متاثر ہو جاتا ہے۔

روتھ فاؤ گزشتہ 56 سالوں سے انسانیت کی خدمت کے لئے کوششوں میں مصروف ہیں۔ کراچی میں قائم 'میری ایڈلڈی لیپروسی سینٹر' ہی میں بنے دو کمروں کے ایک گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ جرمن خاتون کی عمر ان دنوں لگ بھگ 88 سال ہے مگر وہ آج بھی انسانیت کے جذبے سے سرشار ہیں۔

وائس آف امریکہ کی نمائندہ سے گفتگو میں رُوتھ بتاتی ہیں کہ، ’مجھے کام کے سلسلے میں بھارت جانا تھا کسی نے بتایا کہ وہاں پہنچنے کیلئے پہلے پاکستان جانا ہوگا، میں جرمنی سےپاکستان آگئی، روتھ فو نے 60 کی دہائی سے ہاکستان میں اپنی خدمات انجام دیں

روتھ فو نے 60 کی دہائی سے ہاکستان میں اپنی خدمات انجام دیں

جب کراچی اسٹیشن پر پہنچی تو دیکھا کہ کراچی کے کئی علاقوں میں جذام کے مریضوں کی حالت نہایت خراب تھی۔

کراچی سمیت پاکستان بھر میں ایسا کوئی ادارہ موجود نہ تھا جو ان کا علاج کرتا۔ اسی درد کو دیکھتے ہوئے میں نے پاکستان میں ہی کام کرنے کا سوچا‘۔

کراچی کے علاقے کیماڑی ٹاون لیاری اولڈسٹی ایریا اور لانڈھی کورنگی میں جذام کی بیماری کے ہزاروں مریض موجود تھے۔ رُوتھ فاؤ وائس آف امریکہ کی نمائندہ سے بات کرتے ہوئے مزید کہتی ہیں کہ، ’عوام میں آگاہی و شعور کی کمی اور بیماری کیخلاف علاج و معالجے کی سہولت نہ ہونے کے باعث جذام کے ہزاروں مریض سسک سسک کر مررہے تھے‘۔

رُوتھ مزید بتاتی ہیں کہ،’سب سے حیرت ناک میرے لئے یہ تھی کہ کوڑھ کی بیماری کو لوگ بیماری نہیں سمجھتے تھے اس لئے علاج کا تصور بھی نہ تھا۔ لوگ اسے خدا کا عذاب سمجھتے اور متاثرہ مریضوں سے نفرت کرکے گھروں سے باہر پھینک دیتے، یوں متاثرہ شخص علاج معالجے کی سہولت نہ ملنے سے ہلاک ہوجاتا‘۔

وہ بتاتی ہیں کہ، ’کام کا آغاز کراچی شہر کے علاقوں سے کیا جہاں ہزاروں کی تعداد میں جذام یا کوڑھ کے مریض پائے گئے، پھر بڑھتے بڑھتے پورے پاکستان میں موجود مریضوں کی داد رسی کی‘۔

ُروتھ فو کہتی ہیں کہ، ’60ء کی دہائی میں پاکستان بھر میں جذام کے مریضوں کی تعداد 56 ہزار کے لگ بھگ تھی‘۔ رُوتھ مختلف علاقوں میں جاتیں اور مریضوں کو ڈھونڈ کر ان کا علاج کرتیں اس دوران کئی لوگ بھی ان کا ساتھ دینے لگے۔

رُوتھ فاؤ جیسی انسانیت کی خدمت کرنے والی مسیحا خاتون نے اپنی ان کوششوں کے باعث نہ کبھی واپس اپنے ملک جانے کا سوچا اور نہ ہی شادی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ، ’جب میں نے یہاں کام شروع کیا تو سب سے زیادہ غریب طبقے کے افراد کو خوشی ہوئی کہ کوئی خاتون ان کی مدد کو آئی ہے آہستہ آہستہ کئی لوگ اس کام میں حصہ لیتے رہے اور یوں ہماری ایک چھوٹی سی کاوش نے رفتہ رفتہ ایک باقاعدہ ادارے کی شکل اختیار کر لی‘۔

رُوتھ فاؤ مزید بتاتی ہیں کہ، ’اگر میں فیملی کا سوچتی تو یہاں کام کرنا مشکل ہوجاتا‘۔

پاکستان میں خواتین کی صورتحال کے بارے میں رُوتھ بتاتی ہیں کہ، ’میرے ساتھ کئی خواتین نے بھی کام کرنا چاہا مگر پاکستان میں معاشرے میں لڑکی کا کام کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔میڈیکل کی فیلڈ میں کئی لڑکیاں آگے آرہی ہیں کو ایک خوش آئند بات ہے اسمیں کمی نہیں ہونی چاہیئے‘۔

پاکستان میں جذام کی بیماری کے علاج معالجے کی سہولیات کیلئے کئی جگہ ان کے سینٹرز کام کر رہے ہیں جبکہ ان کے ادارے میں 480 کے قریب افراد کام کررے ہیں اور مریضوں کی خدمت میں مصروف ہیں۔

روتھ فو کے اعزازات
پاکستان میں انسانیت کی خدمت کرنے پر انہیں کئی ملکی اور غیر ملکی اعزازات بھی مل چکے ہیں۔
1969 میں ستارہ قائداعظم سے نوازا گیا۔
1976 میں 'ہلال پاکستان' سے ملا
1989 میں پاکستانی حکومت کی جانب سے 'سویلین ایوارڈ' سے نوازا گیا
2002 میں بہترین ایشین ایوارڈ فلپائن کے 'میگے سیسے ایوارڈ' ملا
2003 میں انھیں 'جناح' ایوارڈ دیا گیا
2004 میں آغاخان اسپتال کی جانب سے ڈاکٹر آف سائنس کا اعزاز ایوارڈ ملا
2010 میں انسانیت کی خدمت کے عوض 'نشان ِقائداعظم' دیا گیا
XS
SM
MD
LG